السلام علیکم ! براہِ کرم مجھے ہفتے کے اندر فتویٰ دیں، کیونکہ میرے شوہر نے 3 ستمبر کو میری فلائٹ بک کرائی ہے اور یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تیسری طلاق نہیں ہوئی ہے، 2 دفع طلاق کچھ مہینے پہلے دی، رجوع کر لیا تھا دونو دفع، ابھی پچھلے ہفتے ہماری بات ہوئی، میں نے شوہر سے اجازت لی اور والدین کے ساتھ باہر چلی گئی، شوہر پاکستان میں نہیں ہے، جب میں واپس آئی تو شوہر نے طعنہ دیا، اس سے بات کرتے ہوئے بیوی نے کہا کہ اگر اتنا مسئلہ ہے تو چھوڑ دو، شوہر خاموش رہے، اگلی باتیں ہوئیں، میں رو رہی تھی، تم نے اپنی امی کی وجہ سے دی پہلے، نہیں کرنا چاہیے تھا ایسا آپ کو، تو کہنے لگے کیا کروں میں امّی سے لڑائی کروں؟ میں نے کہا کہ نہیں، لڑنے سے کیا ہوگا، ان کو بھی ہونا چاہیے ایک دفع، کیونکہ ان کی وجہ سے ہمیں ہوئی تھی، فون کاٹ دیا، پھر یہ میسج بھیجے مجھے، بس ہو گئ ، اب مت آنا، ختم ، اللہ حافظ، مجھ سے مت کرنا کانٹیکٹ، ہوگئ اللہ حافظ، آج کے بعد اپنا خیال خود رکھنا، بس ختم، اللہ حافظ، تو یہی چاہتی تھی اب تو ہو جا خوش ساری زندگی کے لئے اور خبردار جو تم نے اب گھر میں یہ بکواس کی کہ تمہارے جینے پر ہوا ہے نہیں، میں نے آج کوئی فرسٹریشن نہیں دکھائی، اللہ حافظ، کیونکہ تجھ جیسی عورت کو کبھی گھر بسانا آتا ہی نہیں ہے اور دیکھتا ہوں میں اب تو کس کے ساتھ بستی ہے، گھر میرا برباد کرکے وہ کہتے ہیں کہ نیت نہیں تھی طلاق دینے کی، قسم بھی کھائی ہے کہہ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان باتوں کے پیچھے ان کا مطلب تھا بات ختم ہو گئی، طلاق نہیں، آپ الفاظ دیکھ کر بتائیں، کل میں نے پوچھا کہ تم مجھے سچ بتاؤ اگر تم نے ان کنایا الفاظ سے تیسری بار طلاق دی ہوتی، تو تم مجھے بتا دیتے؟ شوہر نے وضاحت سے جواب دیا کہ اگر میں نے دی ہوتی طلاق تو میں تمہیں بتادیتا، کہ 3 بار ہو چکا ہے اور حریم بیوی تم میرے لئے حرام ہو، دو دن پہلے شوہر نے بیوی کے زیادہ پریشان کے بارے میں چڑچڑا کر کہا، ”ارے یار میں سیدھا سیدھا بول دیتا ہوں اور ختم کر دیتا ہوں یہ معاملہ“ وہ عین اس وقت طلاق نہیں دے رہا تھا، اگلے دن دوبارہ بیوی کہہ رہی تھی کہ پلیز دعا کریں کہ اگر وہ چیز ہوئی ہے (مطلب اللہ کی نظر میں) شوہر نے جواب دیا ٹھیک ہے، اس کا جملہ مکمل کرنے سے پہلے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ آگے کیا کہے گی، اس کا مطلب تھا کہ میں وضاحت کے لئے دعا کروں گا، اب اس کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دو، بیوی نے جملہ مکمل کرتے ہوئے کہا کہ تو اللہ ہمارے سامنے واضح کر دے، دوبارہ بیوی کہہ رہی تھی کہ میں دعا کر رہی ہوں کہ اگر وہ چیز ہوئی ہے (اللہ کی نظر میں)، اللہ ہمارے سامنے واضح کرتا ہے، شوہر نے جواب دیا ٹھیک ہے، بیوی نے شوہر سے کہا کہ اگر تم نے اپنے گھر والوں کو ہمارے مسائل بتائے تو اس کے نتائج تم خود دیکھ لینا، بیوی کا مطلب تھا کہ اس کے گھر والوں کی وجہ سے ہمارا رشتہ ختم ہو جائے گا، شوہر نے جواب دیا کہ تم پہلے ہی نتیجہ بنا چکی ہو، وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا مطلب رشتہ ختم ہو جائے گا تھا، شوہر نے کہا ہے کہ وہ ان میں سے کسی بات چیت میں طلاق نہیں دے رہا تھا، کیا ان الفاظ میں سے کوئی بھی جو تحریر یا وضاحت میں استعمال کیا ،تیسری طلاق تو نہیں ہوئی؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کو کچھ عرصہ پہلے دو طلاقیں دے کر دورانِ عدت رجوع کرلیا ہو تو دونوں کا نکاح بدستور برقرار تھا، جبکہ حالیہ واقعہ میں سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ ”بس ہوگئی ، اب مت آنا ، ختم ، اللہ حافظ ، میں سیدھا سیدھا بو ل دیتا ہوں اور ختم کردیتا ہوں یہ معاملہ وغیرہ“ اگر طلاق کی نیت سے نہ کہے ہوں جس پر وہ اپنا حلفیہ بیان بھی دیدے تو اس سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،تاہم سائلہ اور اس کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو صبر و تحمل و بردباری کے ساتھ افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی عادت ڈالیں، طلاق جیسے نازک و حساس معاملہ کو اس طرح لڑائی جھگڑے کا حصہ بنانے سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الهدایۃ : و اذا طلق الرجل امراته تطليقة رجعية او تطلیقین، فله ان یراجعها فی عدتها، رضيت بذلك او لم ترض؛ لقوله تعالى: (فامسکوھن بمعروف) من غیر فصل، و لا بد من قيام العدة؛ لان الرجعة استدامة الملك، الا ترى انه سمی امساکا و ھو الابكاء، و انما يتحقق الاستدامة فی العدة لانه لا ملك بعد انقضائها و الرجعة ان يقول: راجعتك، او راجعت امراتی و ھذا صريح فی الرجعة و لا خلاف فيه بين الأئمة۔ قال: او یطأھا أو يقبلها او يلمسها بشھوۃ أو ينظر إلى فرجها بشهوة، و هذا عندنا الخ (باب الرجعۃ، ج: 2 ، ص: 88 ، ط: انعامیۃ)۔
وفی الدر المختار : الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية الخ (باب الکنایات ، ج: 3 ، ص: 296 ، ط: سعید)۔