السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: دو لڑکیوں " فاطمہ " اور " عائشہ " نے ایک ساتھ عائشہ کی والدہ کا دودھ پیا ہے ، یہ دونوں آپس میں پھوپھی زاد بہن بھی ہیں ، اب ” فاطمہ “ عائشہ کے بڑے بھائی ” زید “ سے شادی کرنا چاہتی ہے ، ان دونوں کی شادی از روئے شریعت جائز ہوگی یا نہیں ؟ قرآن وحدیث کے مطابق جواب مرحمت فرمائیں ۔ نوٹ : عائشہ اور زید دونوں کی والدہ ایک ہی ہے ۔
صورتِ مسئولہ اگر " فاطمہ " نے مدتِ رضاعت میں " عائشہ " کی والدہ کا دودھ پیا ہو، تو " فاطمہ" اپنی پھوپھی کی رضاعی بیٹی اور پھوپھی زاد بہن بھائیوں کی رضاعی بہن بن چکی ہے ۔ جس طرح حقیقی بھائی سے نکاح کرنا نا جائز ہے ،اسی طرح رضاعی بھائی سے بھی نکاح شرعاً ناجائزہے ، لہذا سوال میں مذکور "فاطمہ " نامی لڑکی کے بڑے بھائی " زید " کا نکاح "فاطمہ "سے شرعاً جائز نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الھندیۃ: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة اھ ( کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 342، ناشر: دار الفکر )-
وفی النھر الفائق شرح کنز الدقائق: وحرم بها أي: بالرضاع (وإن قل): وهو ما يعلم وصوله إلى الجوف موجود (في ثلاثين شهرًا ما) أي: الذي (حرم بالنسب) أما تحريم القليل منه لإطلاق قوله تعالى: {وأخواتكم من الرضاعة} [النساء: 23] اھ ( کتاب الرضاع، ج: 2، ص: 299، ناشر: دار الکتب العلمیۃ )-
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0