امامت و جماعت

فاتحہ خلف الامام کا حکم

فتوی نمبر :
8698
| تاریخ :
2010-06-14
عبادات / نماز / امامت و جماعت

فاتحہ خلف الامام کا حکم

میں نے حال ہی میں نماز کے متعلق اہلِ حدیث کی لکھی ہوئی کتاب دیکھی، اس میں تھا کہ امام اور مقتدی پر فاتحہ کی قراءت لازم ہے اور حوالہ بخاری کی حدیث کا ہے۔ ہم احناف امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھتے، میں اس مسئلہ میں بہت پریشان ہوں۔ میری مدد کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپﷺ نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے اور تنہا نماز دونوں کا طریقہ بتایا ہے، چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ ’’جب تم نماز پڑھو تو ایک تم میں سے امام بنے، پر جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت شروع کرے (چاہے فاتحہ ہو یا سورت) تو تم خاموش رہو ، اور جب امام ’’ولالضآلین‘‘ کہے تو تم آمین کہو ، اور جب وہ ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے ، تو تم ’’ربنا لک الحمد‘‘ کہو‘‘۔ (۱/ ۱۷۴)۔
جبکہ فتح القدیر میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’جو شخص امام کی اقتداء میں نماز پڑھے تو امام کی قرأت اسی کی قرأت ہوتی ہے‘‘۔ (۱/ ۲۹۵)۔
اور اسی طرح کی اور بھی بے شمار روایات موجود ہیں، نیز خود قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (الأعراف: 204) ‘‘ ترجمہ: ’’جب قرآن پڑھاجائے تو اسے سنو اور خاموش رہو ‘‘۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت نماز میں پڑھنے سے متعلق اتری ہے۔ (تفسیر قرطبی، ۷/ ۲۷۰)، تفسیر روح المعانی: ۹/ ۱۵۳)۔
جہاں تک سورۃ فاتحہ والی بخاری کی روایت کا تعلق ہے تو وہ خود امام اور تنہا نماز پڑھنے والے کے بارے میں ہیں ، جیسا کہ صحیح روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملائے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
وفی سنن أبی داود: عن أبي هريرة، قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أنادي: «أنه لا صلاة إلا بقراءة فاتحة الكتاب» فما زاد اھ (1/ 216)
حلانکہ یہ لوگ سورت کو لازم نہیں سمجھتے، اور مقتدی کے حق میں یہ روایت ایسی ہے جیسا کہ صحیح روایات میں آتا ہے کہ ’’جمعہ خطبہ کے بغیر نہیں ہوتا‘‘۔
ففی المدونة الکبریٰ: ابن وهب عن یونس عن ابن شهاب قال: بلغنی أنه لا جمعة إلا بخطبة اھ (۱/ ۱۷۶)
حلانکہ یہ لوگ امام کے ساتھ خطبہ نہیں پڑھتے، اگر اس حدیث کا وہی مطلب ہے جو انہوں نے سمجھایا اور آپ نے سمجھا تو پھر اپنے آپ کو (اہلِ حدیث کہلانے والے) غیر مقلدین کو امام کے ساتھ سورۃ اور خطیب کے ساتھ خطبہ پڑھنا چاہیئے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 8698کی تصدیق کریں
0     1212
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات