میری شادی ستمبر 2023میں ہوئی ،میں 3ماہ دسمبر تک اپنے شوہر کے ساتھ آباد رہی، اُس دوران ہمارا ازدواجی تعلق قائم نہ ہو سکا، میرے شوہر کی عمر ۳۰ سال ہے اور ہماری شادی کے وقت ۲۸ سال تھی،مجھے يقین ہے کہ ان کو صحت کا کوئی مسئلہ ضرور تھا، جس کی وجہ سے ہمارا تعلق ٹھیک سے قائم نہیں ہوپاتا تھا، جب میں اپنے میکے آئی شادی کے صرف 3ماہ بعد دسمبر ۲۰۲۳میں، تو میں نے اپنے والدین کو سب حقیقت بتا دی، اس وقت سے میں اپنے والدین کے گھر میں ہُوں ، یاد رہے کہ اس کو شادی سے پہلے اپنی کنڈیشن کا علم تھا، اُسکے والدین بھی جانتے تھے، میرے والدین نے اسکو کہا کہ میرا جہیز واپس کرے اورمجھے طلاق دے، لیکن اُس نے نہ مانا اور بولا اگر طلاق لینی ہے، تو عدالت جاؤ، تو ہم نے جنوری 2024میں عدالت میں حق مہر اور خرچہ کا دعویٰ دائر کیا، جس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا،میں اُسکے ساتھ اب رہنا نہیں چاہتی ،مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ وہ مجھے جان سے مار دے گا اگر اُسکے پاس واپس گئی ،اور انہوں نے دھوکہ دیا بیماری کے باوجود مجھ سے شادی کرلی ،حالانکہ شادی سے پہلے سے ہی وہ بیمار تھے ،اور اب طلاق کے مطالبے کے باوجود بھی طلاق نہیں دے رہے، تو کیا اس صورت میں اب تک کے خرچے کی حق دار نہیں ہوں میں؟ اور اسکے گھر والے میرا جہیز کا سامان استعمال کر رہے ہیں ابھی تک، میں ۳ ماہ رہی اُسکے ساتھ دسمبر ۲۰۲۳ تک اُسکے بعد سے ابھی تک میں اپنے والدین کے گھر کراچی میں ہُوں اور جنوری ۲۰۲۴سے پنجاب علی پور عدالت میں میرا کیس چل رہا ہے، حق مہر اور خرچہ کا دعویٰ ہے وہ کہتا ہے اگرطلاق چاہیے تو عدالت جاؤ،خلع کا دعویٰ کرو، میں کچھ نہیں دیتا ،حق مہر خرچہ کُچھ بھی نہیں اور اگر میں عدالت سے خلع بھی لوں، تو وہ اس پر سائن کے لئے بھی تیار نہیں ہونگے اور میری معلومات کے مطابق شوہر کے سائن کے بغیر خلع معتبر نہیں ہوتی ،آپ بتائیں کیا اسلام کے مطابق قرآن حدیث شریعت کے مطابق میں حق مہر کی حقدار ہُوں ا ور خرچہ کی حقدار ہُوں ،اس سے یا نہیں ہُوں حقدار ان کی ؟ ستمبر 2023 میں نکاح سے قبل فریقین کے درمیان تحریری طور پر یہ شرائط طے ہوئیں کہ شادی کے چار ماہ بعد شوہر کے والد اپنے بیٹے کے حصے کا 2.75 مرلہ گھر اس کے نام منتقل کریں گے تاکہ وہ بیوی کے نام کردے، نیز پانچ مرلہ کا قسطوں والا پلاٹ اور مجموعی طور پر پچاس ہزار روپے حقِ مہر مقرر ہوا ،جن میں دس ہزار معجل ادا کیا گیا اور باقی مؤجل رہا،نکاح 22 ستمبر کو کراچی میں ایجاب و قبول کے ساتھ طے پایا اور ایجاب و قبول کے وقت صرف نقدی رقم 50 ہزار جو حق مہر میں طے ہوئی ،اس کا تذکرہ کیا، لیکن پانچ مرلہ پلاٹ کا ذکر نہیں کیا، جو نکاح نامہ میں لکھا ہوا ہے ، تو آیا کہ وہ پلاٹ بھی حق مہر میں شمار ہوگا یا نہیں ؟ اور ہماری طلاق یا علیحدگی کی صورت میں شوہر پر اس حق مہر کی ادائیگی لازم ہے یا نہیں ؟انہوں نے دھوکہ دیا بیماری کے باوجود شادی کی شادی سے پہلے سے ہی وہ بیمار تھے اور طلاق کے مطالبے کے باوجود طلاق نہیں دے رہے، تو کیا اس صورت میں اب تک کے خرچے کی حق دار نہیں ہوں میں؟ میرےسوال کے مسائل (1) بیماری۲) خرچہ ۳) حق مہر۴) طلاق ،قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیاہو،تو شوہر کو اپنی بیماری اور حقوقِ زوجیت کی ادائیگی پر قادر نہ ہونے کا علم ہونے کے باوجود سائلہ کے ساتھ نکاح کرنا درست طرزِ عمل نہیں تھا،تاہم جب باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دونوں کا نکاح ہوا،تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے، اب اگر شوہرحقوقِ زوجیت پر قادر نہ ہونے یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کے درمیان نباہ نہ ہو سکتا ہو،تو سائلہ کے شوہر کو چاہیئےکہ سائلہ کو طلاق دیکر اپنے نکاح سے آزاد کرے، تاکہ وہ عدّت گزار کر کسی دوسری جگہ نکاح کرسکے،لیکن اگر سائلہ کا شوہر طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو ،بلکہ حق مہر وغیرہ کی معافی کے عوض خلع پر رضامند ہو،تو سائلہ کو چاہیئے کہ حق مہر وغیرہ کے بدلے شوہر سے خلع حاصل کرلے،تاکہ اس کے نکاح کی بندھن سے آزادی مل سکے،چنانچہ اگر حق مہر کی معافی کے عوض باہمی رضامندی سے خلع ہو جائے،تو ایسی صورت میں سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی،جس کے بعد وہ عدّت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی،لیکن اس صورت میں سائلہ کو شوہر سے حقِ مہر کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہو گا۔
جبکہ سائلہ اگر شوہر کی اجازت و رضامندی اور کسی شرعی عذر کے بغیر والدین کے گھر رہ رہی ہو،تو ایسی صورت میں وہ شرعاً گزشتہ عرصے کے خرچے کی حقدار نہ ہوگی،چنانچہ سائلہ کے لئے اپنے شوہر سے گزشتہ ایّام کے خرچہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (هو) لغة من لا يقدر على الجماع فعيل بمعنى مفعول جمعه عنن. وشرعا (من لا يقدر على جماع فرج زوجته) يعني لمانع منه ككبر سن، أو سحر، إذ الرتقاء لا خيار لها للمانع منها خانية. (إذا وجدت) المرأة (زوجها مجبوبا) ، أو مقطوع
الذكر فقط أو صغيره جدا كالزر، ولو قصيرا لا يمكنه إدخاله داخل الفرج فليس لها الفرقة بحر، وفيه نظر. وفيه: المجبوب كالعنين إلا في مسألتين؛ التأجيل، ومجيء الولد (فرق) الحاكم بطلبها لو حرة بالغة غير رتقاء وقرناء وغير عالمة بحاله قبل النكاح وغير راضية به بعده (بينهما في الحال) ولو المجبوب صغيرا لعدم فائدة التأجيل الخ
و فی الشامیۃ تحت : (قوله: فرق الحاكم) وهو طلاق بائن كفرقة العنين بحر عن الخانية، ولها كل المهر، وعليها العدة إن خلا بها عنده. وعندهما لها نصفه كما لو لم يخل بها بدائع (قوله: بطلبها) هو على التراخي كما يأتي بيانه الخ ( باب العنین، ج 3، ص 495،ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة (الی قولہ) (قوله فقبل ذلك لا يلزمه شيء) أي لا يلزمه عما مضى قبل القرض بالقضاء أو الرضا ولا عما يستقبل الخ(مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا،ج 3،ص 594،ط:سعید)۔
و فی البحر الرائق: واستفيد من وضع المسألة أن نكاح العنين صحيح فإن علمت بعنته وقت النكاح فلا خيار لها كما لو علم المشتري بعيب المبيع وإن لم تعلم به وقته وعلمت بعده كان لها الخصومة وإن طال الزمان كما في الخانية (الی قولہ ) ( فإن وطىء وإلا بانت بالتفريق إن طلبت ) أي طلبا ثانيا فالأول للتأجيل والثاني للتفريق(الی قولہ) ولما كانت هذه فرقة قبل الدخول حقيقة كانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة وأشار إلى أنه لو وطئها مرة لا حق لها في المطالبة لسقوط حقها بالمرة قضاء وما زاد عليها فهو مستحق ديانة لا قضاء كما في جامع قاضيخان الخ(باب العنین، ج 4، ص 135، ط: دار الکتب الاسلامی)۔