محترم مفتیانِ کرام اور علماء ِ دین کی خدمت میں عرض ہے کہ میرا نام ” باییش اولوزا میر “ ہے ،میں نے اپنی پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کی تھی ،جب پہلی بیوی کو اس بات کا علم ہوا تو سخت جھگڑا ہوا یہاں تک کہ وہ خود کشی کرنے کے اراد سے چاقو اٹھا بیٹھی ،بڑی مشکل سے میں نے اسے روکا،ایک دن کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو اس نے دوبارہ ہنگامہ و شور شروع کیا اور شرط رکھی کہ ” یا تو دوسری بیوی کو طلاق دو یا میں اپنی جان لے لوں گی “ ،پھر اس نے میرے ہاتھ میں بیٹے کا موبائل تھما کر دوسری بیوی کا نمبر ملادیا اور کہا کہ ” ابھی لکھو کہ تم نے اسے تین طلاق دے دی ہیں “، بیوی کے شدیددباؤ اور مجبوری کی حالت میں میں نے موبائل فون پر یہ الفاظ لکھ دیے کہ ” باییش اولوزا میر تجھے تین طلاق دیتا ہوں “ ،لیکن میرا دل اور میری نیت ہر گز طلاق دینے کی نہ تھی ،میں نے صرف گھر ٹوٹ پھوٹ اور مزید فساد سے بچانے کیلئے یہ الفاظ لکھے ،اس کے بعد مقامی علماء سے رجوع کیا ،انہوں نے کہا کہ قاضی کے پاس جاؤ ،قاضی کے سامنے میں نے پورا واقعہ بیان کیا ،قاضی نے کہا : تم انتظار کرو ،ہم کتابیں دیکھتے ہیں اور مشورہ کرتے ہیں ،،تین کے بعد میں گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ” ہم نے کتابیں دیکھیں اور علماء سے مشورہ کیا ،تم اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہ سکتے ہو“،اس کے بعد میں نے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کردی ،لیکن کچھ عرصہ بعد ایک اور عالم نے کہا کہ ” تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اب تم دونوں کیلئے ساتھ رہنا جائز نہیں “ ،اضافی بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد میری دوسری بیوی کے ہاں حمل ٹھہر گیا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے اوپر میری بیوی کی طرف سے ” میں اپنی جان لوں گی “ کا دباؤ اکراہ ( زبردستی ) کے حکم میں شمار ہوگا یا نہیں ؟ کیا میری دوسری بیوی پر واقعی تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں یا نہیں ؟ براہِ کرم قرآن و سنت میں کی روشنی میں دلائل کے ساتھ وضاحت فرماکر رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی دوسری بیوی کو طلاق نہ دینے کی صورت میں اس کی پہلی بیوی کی جانب سے خود کشی کرنے کی دھمکی شرعاً اکراہ کے حکم میں شمار نہ ہوگی،اس لئے کہ اکراہ سے مراد یہ ہے کہ کسی ایک فریق کی جانب سے دوسرے شخص کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر باقاعدہ جان سے مارنے یا اس کےکسی عضو کوتلف کرنے کی دھمکی دے کر مجبور کیا گیا ہو اورمکرِہ ( مجبور کرنے والا ) اس دھمکی کو سرانجام دینے پر قادربھی ہو،جبکہ سوال میں ذکرکردہ صورت میں یہاں مکرِہ ( دھمکی دینے والا ) اور مکرَہ ( جسے مجبور کیا گیا ہو ) دونوں کوئی علیحدہ علیحدہ شخصیت نہیں،بلکہ بیوی خود کو ہلاک کرنے کا کہہ رہی ہے،اس لئے اسے شرعاً اکراہ نہیں کہا جاسکتا،لہذا جب سائل مسمی ”باییش الوزا میر “ نے محض اپنی بیوی کے خود کشی کرنےکی دھمکی پر اپنی دوسری بیوی کو مذکور الفاظ ” میں باییش الوزا میر تجھے تین طلاق دیتا ہوں “ تحریر کرکے ارسال کیے تو ان الفاظ سے اس کی دوسری بیوی پر تینوں طلاقیں وقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، اور اب تک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے ، اس پر بصدقِ دِل توبہ و استغفار کریں اور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور آئندہ کیلئے اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں، اور عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
جبکہ طلاقِ مغلظہ کے وقوع کے بعد سائل کا مذکور قاضی کی بات پر عمل کرکے اپنی بیوی کو حلال سمجھتے ہوئے دونوں کا میاں بیوی والے تعلقات اختیار کرنا اگرچہ ناجائز تھا ،تاہم اس کے نتیجہ میں سائل کی بیوی کو ٹھہرنے والے حمل کا نسب شرعاً سائل سے ہی ثابت ہوگا۔
کما فی الدر المختار: ( ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ) ولو تقدیرا بدائع، لیدخل السکران ( ولو عبدا أو مکرھا ) فإن طلاقہ صحیح لا إقرارہ بالطلاق قد نظم فی النھر مایصح مع الإکراہ فقال: طلاق وإیلاء ظھار ورجعۃ إلخ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 235، ط: سعید )۔
وفیہ أیضاً: ( ھو لغۃ حمل الإنسان علی ) شئی یکرھہ وشرعاً ( فعل یوجد من المکرہ فیحدث فی المحل معنی یصیر بہ مدفوعا إلی الفعل الذی طلب منہ ) وھو نوعان تام وھو الملجئی بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وھو غیر المجئی۔
( وشرطہ ) أربعۃ أمور: ( قدرۃ المکرہ علی إیقاع ماھدد بہ سلطانا أو لصا ) أو نحوہ ( و ) الثانی ( خوف المکرہ ) بالفتح ( أی إیقاع ماھدد بہ فی الحال ) بغلبۃ ظنہ لیصیر ملجأ إلخ(کتاب الإکراہ، ج: 5، ص: 129، ط: سعید )۔
وفی الدر: (وإذا وطئت المعتدۃ بشبھۃ) ولو من الطلق (وجبت عدۃ أخری) إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ بشبھۃ) متعلق بقولہ وطئت، وذلک کالموطوءۃ للزوج فی العدۃ بعد ثلاث بنکاح، وکذا بدونہ إذا قال ظننت أنھا تحل لی أو بعد مأبانھا بألفاط الکنایۃل، وتمامہ فی الفتح إلخ( کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج: 3، ص: 518، ط: سعید )
وفی الدر: ( و ) الواطئ ( إن ادعی النسب یثبت فی الأولی ) أی شبھۃ المحل ( لا فی الثانیۃ ) أئ شبھۃ الفعل لتمحضہ زنا ( إلا فی المطلقۃ ثلاثا بشرطہ ) بأن تلد لأقل من سنتین لا لأکثر إلا بدعوۃ کما مر فی بابہ إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ لتمحضہ زنا ) لأنہ لاشبھۃ ملک فیہ بل سقط الحط لظنہ فضلا من اللہ تعالی، وھو راجع إلیہ أی إلی الوطئ لا إلی المحل فکأن المحل لیس فیہ شبھۃ حل فلایثبت النسب بھذا الوطء ولذا لاتثبت بہ عدۃ لأنہ لاعدۃ من الزنا فتح (إلی قولہ) فقول المصنف بشرطہ لامحل لہ لأن کلامہ فیما إذا ادعی النسب وفیہ یثبت مطلقا کما علمت وھو الذی حررہ الفتح وتبعہ فی البحر إلخ( کتاب الحدود، باب الطء الذی یوجب الحد إلخ، ج: 4، ص: 22۔23، ط: سعید )
وفی الھدایۃ: و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ، لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا إلخ( کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 2، ص: 92، ط: مکتبہ انعامیۃ )۔