امامت و جماعت

امام کو رکوع میں چلاجاۓ تو اس موقع پر آنے والا نمازی کیسے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر جماعت میں شامل ہو

فتوی نمبر :
873
| تاریخ :
2005-01-18
عبادات / نماز / امامت و جماعت

امام کو رکوع میں چلاجاۓ تو اس موقع پر آنے والا نمازی کیسے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر جماعت میں شامل ہو

محترم مفتی صاحب! اگر جماعت ہورہی ہو اور ہم امام کو رکوع میں پا لیں تو کیا ہمیں تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ کر رکوع میں جانا چاہیۓ یا بغیر ہاتھ باندھے بھی جا سکتے یں؟ نیز کیا ایسی صورت میں رکوع کے لۓ الگ تکبیر کہنی چاہیۓ یا نماز کے شروع والی تکبیر کافی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سیدھے کھڑے ہو کر تکبیر کہنےکے بعد تھوڑا وقفہ کر کے رکوع کی تکبیر کہتے ہوئے چلے جانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور ایسا ہی کیا جاۓ ، تکبیرِ تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنا اور ثناء وغیرہ کا پڑھنا لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الخلاصة : لو أدرك الإمام فی الرکوع یکبر الإفتتاح و یترك الثناء و یکبر و یرکع اھ (۱/ ۵۳)۔
و فی الفتاوى الهندية : و إن أدرك الإمام في الركوع أو السجود يتحرى إن كان أكبر رأيه أنه لو أتى به أدركه في شيء من الركوع أو السجود يأتي به قائما و الا يتابع الإمام و لا يأتي به و إذا لم يدرك الإمام في الركوع أو السجود لا يأتي بهما و إن أدرك الإمام في القعدة لا يأتي بالثناء بل يكبر للافتتاح ثم للانحطاط ثم يقعد . هكذا في البحر الرائق في صفة الصلاة . (1/ 91)۔
و فی الدر المختار : و لو أدركه راكعا أو ساجدا ، إن أكبر رأيه أنه يدركه أتى به . (1/ 489)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اورنگزیب دوست محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 873کی تصدیق کریں
0     860
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات