طلاق

غصہ کی حالت میں" جاؤ میری طرف سے تم فارغ ہو" کہنے سے کیا طلاق ہوجائے گی؟

فتوی نمبر :
87310
| تاریخ :
2025-10-05
معاملات / احکام طلاق / طلاق

غصہ کی حالت میں" جاؤ میری طرف سے تم فارغ ہو" کہنے سے کیا طلاق ہوجائے گی؟

میری بیٹی مسماۃ آصفہ حیدر کی شادی طاہر جوگیزی جو کہ میرا بھانجا ہے، اس سے ہوئی۔ ان کے ابھی دو بچے بھی ہیں۔ شادی 2008 میں ہوئی، شروع میں خوشگوار زندگی گزر رہی تھی، کچھ عرصہ بعد تعلقات میں کشیدگی آئی، اس کشیدگی کے دوران میری بیٹی نے کسی بات پر اس کو خدا اور رسول کا واسطہ دیا، اس پر طاہر جوگیزی نے یہ جواب دیا کہ:" میں نہ تو خدا کو مانتا ہوں اور نہ رسول کو مانتا ہوں"، اس کے بعد بچی نے مجھے بتایا۔ میں نے علماء سے رابطہ کیا ، علماء نے کہا اس سے پوچھے اس کی نیت کیا تھی، اس پر طاہر جوگیزی نے جواب دیا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ، غصے میں یہ الفاظ نکلے ہیں ،طاہر نے مسجد میں جا کر توبہ و استغفار کی ۔ابھی حالیہ امر یہ ہے کہ ایک: اس نے میری بیٹی آصفہ حیدر کو کہا کہ "جاؤ تم میری طرف سے فارغ ہو" بیٹی نے مجھے بتایا ، طاہر جوگیزی کی والدہ نے طاہر جوگیزی سے پوچھا کہ: تمہارا ارادہ یعنی نیت کیا تھی، اس پر اس نے کہا میری طلاق کی نیت نہیں تھی، میں نے یہ الفاظ غصے میں کہے تھے۔ان الفاظ کوادا کرنے کے بعد تقریبا ایک سال تک دونوں نے ملاپ یا رجوع نہیں کیا، جبکہ دونوں ایک گھر میں رہتے تھے،ـ اس بات کو تقریباً تین سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ان تین سالوں میں دو یا تین دفعہ ملاپ ہوا ہے ۔ ابھی تین ماہ سے بیٹی میرے گھر میں ہے اس دوران انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ کیا تین سال پہلے یہ الفاظ ا دا کرنے سے طلاق بائن واقع ہو چکی تھی یا نہیں؟ اب بیٹی آصفہ حیدر اس سے خلع لینا چاہتی ہے، طاہر جوگیزی بھی خلع دینے کے لیے راضی ہے، اب خلع کے لیے طاہر جوگیزی گواہوں کی موجودگی میں صرف یہ کہے اور لکھ کردے کہ: میں نے خلع دیا، تو کیا خلع ایک بار کہنے سے خلع ہوجائے گی؟ گزارش ہے کہ اس بارے میں تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ ميں عرصہ قبل لڑائى جھگڑے كے دوران سائل كے داماد نے جو مذكور الفاظ " نہ تو خدا كو مانتا ہوں الخ" كہے تھے، اس متعلق علماء سے رجوع كرنے پر متعلقہ شخص كى وضاحت يا كسي تاويل وغيره كى وجہ سے انھوں نے مياں بيوى كے درميان نكاح كے برقرار ہونے كا فيصلہ كيا ہو، جس كى بنياد پر مياں بيوى ساتھ رہتے رہے ہوں، تو ان کے فیصلہ کے مطابق نکاح درست ہونے کے باوجود ،ایک سال قبل جب سائل كے داماد نے مذاكرۂ طلاق يا غصہ ميں آ كر اپنى بيوى (سائل كى بيٹى) كو مذكور الفاظ "تم ميرى طرف سے فارغ ہو،" كہہ دیئے ہوں، تو اس سے بيوى پر ايك طلاق بائن واقع ہوكر مياں بيوى كا نكاح بالكليہ ختم ہو چكا تھا، جس كے بعد بغير تجديدِ نكاح كے ان كا مياں بيوى كى حيثيت سے ساتھ رہنا جائز نہ تھا، جس كى وجہ وه سخت گنہگار ہو چكے ہيں، جس پر انھيں بصدق دل توبہ واستغفار كرنا لازم ہے، ليكن اب قانونى كاروائى مكمل كرنے كے واسطے اگر فريقين باہمی رضامندى سے خلع كے پيپرز دستخط كرنا چاہتے ہوں ، تو كر سكتے ہيں ، شرعاً اس ميں كوئى مضائقہ نہيں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ (سورة الشورى: 25)
وفي رد المحتار: ‌والذي ‌تحرر ‌أنه ‌لا ‌يفتى ‌بكفر ‌مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها اھ (باب المرتد، ج: 4، ص: 224، ط: ايج ايم سعيد )
وفي رد المحتار: ثم قال في البحر والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل اھ (باب المرتد، ج: 4، ص: 224، ط: ايج ايم سعيد)
وفي رد المحتار: ‌بيان ‌ذلك ‌أن ‌حالة ‌الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق بخلاف ألفاظ الأخيرين فإنها وإن احتملت الطلاق لكنها لا تحتمل ما تحتمله المذاكرة من الرد والتبعيد، فترجح جانب الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عنه فلذا وقع بها قضاء بلا نية اھ (باب الكنايات، ج: 3، ص: 301، ط: ايج ايم سعيد )
وفي الهداية: وفي حالة مذاكرة الطلاق لم يصدق فيما يصلح جوابا ولا يصلح ردا في القضاء مثل قوله خلية برية بائن بتة حرام اعتدي أمرك بيدك اختاري لأن الظاهر أن مراده الطلاق عند سؤال الطلاق وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها لأن الغضب يدل على إرادة الطلاق اھ(باب إيقاع الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول، ج: 2، ص: 390، ط: )
وفي الهندية: وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية اھ (كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج: 1، 375، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: خرج به الخلع في النكاح الفاسد وبعد البينونة والردة فإنه لغو كما في الفصول اھ
وفي رد المحتار: (قوله: فإنه لغو) لأن النكاح الفاسد لا يفيد ملك المتعة، وبالبينونة والردة حصلت الإزالة قبله، فلم يكن في الخلع إزالة اھ(باب الخلع، ج: 3، ص: 439، ط: ايج ايم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87310کی تصدیق کریں
0     180
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات