السلام علیکم میرے اور میری بیوی کے درمیان بات ہو رہی تھی اور میں نے غصے میں بیوی کو بولا کہ میں نوید خان اپنے ہوش و حواس میں تمہیں اپنی زندگی سے فارغ کرتا ہوں میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور میرے نزدیک طلاق کے لیے صرف طلاق لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔اور دوسری بات میں اپنی بیوی کو جو لفظ بولنا چاہا رہا تھا وہ یہ تھا کہ میں نوید خان اپنے ہوش و حواس میں تمہیں اپنی زندگی سے فارغ نہیں کرتا ہوں۔اور میرے دل اور میری نیت کا گواہ میرا اللہ ہے۔
فتویٰ چاہئیے ۔
واضح ہو کہ " فارغ " کا لفظ عند القرینہ طلاق صریح بائن کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس لئے مذاکرۂ طلاق یا مطالبۂ طلاق کےوقت ان الفاظ کے بولنے سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سائل نے جب غصہ میں آکر بیوی کو مذکور الفاظ " تمہیں زندگی سے فارغ کرتاہوں " ایک مرتبہ کہہ د یے تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکاہے، چنانچہ اس کے بعد بھی اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں،لیکن آئندہ کے لئے شوہرکوفقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا،اسلئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
فی الدرالمختار: (فالکنایات لاتطلق بھا قضاء الأ بنیۃ او دلالۃ الحال)وھی حالۃ مذاکرة الطلاق أو الغضب (کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:ِ296،ط:سعید)
فی ردالمختار:(قولہ أو لم ینؤ شیئا)وعما لوسبق لسانہ من قول أنت حائض مثلا فإنہ یقع قضاء فقط ،(الی قولہ)وأماالھازل فیقع طلاقہ قضاء ودیانۃلأنہ قصد السبب عالما بأنہ سبب فرتب الشرع حکمہ علیہ أرادہ او لم یردہکمامر (الی قولہ) ولو نوى الطلاق عن وثاق أو سبق لسانه إلى لفظ الطلاق يقع قضاء فقط أي لا ديانة لأنه لم ينوه. وفيه نظر لأن عدم وقوعه ديانة في الأول لأنه صرف اللفظ إلى ما يحتمله، وفي الثاني لعدم قصد اللفظ، واللازم من هذا أنه يشترط في وقوعه ديانة قصد اللفظ وعدم التأويل الصحيح(کتاب الطلاق،ج:3، ص:250، ط:سعید)
وفی بدائع الصنائع:وأما إن كان أحدهما حرا، والآخر مملوكا فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية(کتاب الطلاق فصل فی بیان حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،ط:سعید)۔