طلاق

تین معلق طلاقوں سے نکلنے کا شرعی طریقہ

فتوی نمبر :
87667
| تاریخ :
2025-10-12
معاملات / احکام طلاق / طلاق

تین معلق طلاقوں سے نکلنے کا شرعی طریقہ

السلام علیکم !موجودہ واقعہ ایسا ہے کہ آج سے تقریباً تین ماہ قبل بیوی کو بغیر اطلاع کیے کہیں نہ جانے پر زور دینے کے لئے اور میرے نزدیک اپنی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے، میں نے یہ بات کہی"اگر مجھے بتائے بغیر تم باہر جاتی ہو، تو میری طرف سے تین طلاق ہیں"اس کے بعد سے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، جس پر میرا یہ جملہ لاگو ہو سکے، مگر یہ جملہ میری بیوی کو پریشان کرتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا میرے الفاظ واپس لینے سے یہ جملہ ختم ہو سکتا ہے؟ میں نے کوئی تحریری طور پر نہیں کہا تھا، بس بات کے دوران یہ بات کہی گئی تھی، اُس وقت کے حالات کے پیشِ نظر ،اب جب یہ جملہ میری بیوی کو مستقل طور پر تنگ کر رہا ہے، اور وہ اس مسئلے پر فتویٰ چاہتی ہے، تو کیا یہ بات جیسے کہی گئی تھی، ویسے ہی کہہ کر واپس لی جا سکتی ہے؟ براہِ کرم اس پر رہنمائی فرمائیں۔
میری بیوی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور ہماری شادی کو خوشی کے ساتھ 7 سال ہو چکے ہیں، اللہ نے ہمیں دو بیٹیوں سے نوازا ہے، گھریلو طور پر بھی الحمدللہ کوئی پریشانی نہیں، مذکور واقعہ اُس وقت پیش آیا، جب میری بیوی ہماری آپس کی ناراضی کی وجہ سے اپنے ابو کے گھر تھی اور وہاں سے بغیر مجھے اطلاع کیے اپنی والدہ کے ساتھ باہر چلی گئی، جس کا مجھے علم نہیں ، میرا یہ جملہ اُس "بغیر بتائے باہر جانے" پر تھا اور مقصد سو فیصد تنبیہ کرنا تھا کہ بغیر میری اطلاع کے میری بیوی کہیں نہ جائے ،عام حالات میں معاملات اچھے ہیں، گھر کی بعض مخصوص باتوں پر اعتراضات دونوں کو ہوتے ہیں، ان پر ہلکی پھلکی باتیں چلتی رہتی ہیں،7 سال میں یہ پہلا واقعہ تھا ،جو تھوڑا زیادہ طُول پکڑ گیا تھا، اور اس واقعے کے دوران میرا ادا کیا گیا یہ جملہ اب بھی ہمیں پریشان کر رہا ہے،جواب درکار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو جو الفاظ کہے " اگر مجھے بتائے بغیر تم باہر جاتی ہو، تو میری طرف سے تین طلاق ہیں" اس سے تین طلاقیں معلق ہو چکی ہیں،، چنانچہ اب اگر سائل کی بیوی سائل کو اطلاع دیے بغیر گھر سے باہر گئی، تو شرط پائے جانے کی وجہ سے اُس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی ، جس کے بعد بغیر حلالۂ شرعیہ کے دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔تاہم اس سے بچنے کا یہ حیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے اور دورانِ عدت بیوی سائل کو اطلاع دیے بغیر باہر ہر گز نہ نکلے، پھر جب عدت ختم ہو جائے، تو بیوی سائل کو اطلاع دیے بغیر گھر سے نکل جائے، اس وقت چونکہ بیوی سائل کے نکاح میں نہ ہوگی اس لئے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور مذکور شرط بھی پوری ہو جائے گی، اسکے بعد باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ ِنکاح کرلیں، تجدیدِ نکاح کے بعد اگر بیوی اطلاع دیے بغیر گھر سے باہر جائےگی،تواس پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم آئندہ کیلئے سائل کو فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها الخ
و فی الشامیۃ تحت : قوله وتنحل اليمين إلخ) لا تكرار بين هذه وبين قوله فيما سبق وفيها تنحل اليمين إذا وجد الشرط مرة لأن المقصود هناك الانحلال بمرة في غير كلما وهنا مجرد الانحلال اهـ ح ولأنه هنا بين انحلالها بوجودها في غير الملك بخلاف ما سبق ط (قوله مطلقا) أي سواء وجد الشرط في الملك أو لا كما يدل عليه اللاحق ح (قوله لكن إن وجد في الملك طلقت) أطلق الملك فشمل ما إذا وجد في العدة والمراد وجود تمامه في الملك لا جميعہ الخ ( کتاب الطلاق، باب التعلیق،ج 3، ص 355،ط؛سعید)۔
و فی الھندیۃ : وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين لا يبطلها فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي الخ (کتاب الطلاق،‌‌الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه،‌‌الفصل الثاني في تعليق الطلاق بكلمة كل وكلما،ج1، ص 416، ط : ماجدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87667کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات