محترم مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا یہ ہے کہ : میرے شوہر نے بہت دفعہ ان الفاظ کا استعمال کیا "کہ میری طرف سے فارغ ہو ، کبھی یہ بھی کہ میں نہیں ہوں تمہارا خاوند، جو تمہارا خاوند ہے اس سے پوچھو، میری طرف سے فارغ ہو جاؤ اور ہمیشہ غصے میں ہی کہا"، معمولی بات سے غیر معمولی بات تک یہی الفاظ دہراتے رہتے تھے، منع کرتی تھی میں لیکن تاکید نہیں کی تھی جب تک مجھے علم نہیں تھا، پھر کچھ ماہ پہلے میں نے ایک ویڈیو دیکھی کہ میری طرف سے فارغ ہو کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اس لیے گریز کرنا چاہیے اس بات سے، پھر ویڈیو انہیں بھی دکھائی اور یہ بھی کہا ساری زندگی گزر گئی، آپ کو یہ کہتے ہوئے اس طرح تو یہ رشتہ ہمارا صحیح نہیں تھا، لیکن اب جب پتہ چل گیا ہے تو سچے دل سے توبہ کرو آپ۔ پھر کان پکڑ کر توبہ توبہ کرنے لگے، لیکن اس کے بعد بھی انہوں نے کسی معمولی بات پر غصے میں آکر مجھے یہ کہا کہ جو مرضی کرو، میری طرف سے فارغ ہو، جب کہ انہیں بتایا تھا کہ ایسا کہنا درست نہیں ہوتا، لیکن غصے میں وہ جو دل میں آتا تھا کہتے تھے۔اور بتانے سمجھانے کے بعد بھی، جیسا کہ جھگڑا معمول تھا، انہوں نے کچھ ماہ پہلے مجھے کہا کہ مجھ سے طلاق لو، کہتی ہو تو میں فارغ کر دیتا ہوں، طلاق لکھ دیتا ہوں تمہیں ۔ چھوڑ کر چلی جاؤ یہاں سے، خدا کا واسطہ ہے، میں نے ان کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا اور کہا ایسا مت کہو، میں کہیں نہیں جانا چاہتی، یہاں رہنا چاہتی ہوں اور مشکل سے انہیں چپ کروایا۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان صورتوں سے طلاق ہو جاتی ہیں یا نہیں ؟ اور اگر ہو جاتی ہے تو کب سے طلاق شمار ہوگی۔
واضح ہوکہ " میری طرف سے فارغ ہو" کے جملے سے عند القرینہ طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کے شوہر نے اپنی بیوی ( سائلہ ) کو مذکور الفاظ "میری طرف سے فارغ ہو" دوران لڑائی اور غصہ کی حالت میں کہے ہوں تو پہلی مرتبہ یہ الفاظ کہنے سے ہی سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوگیا تھا جس کے بعد بغیر تجدید نکاح کے دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا درست نہیں تھا جس پر انہیں بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے ۔جبکہ بعد کے تمام الفاظ، عدم لحوق کی وجہ سے شرعاً لغو ہوگئے ہیں، نیز سائلہ عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں ، تاہم اس کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔