محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
میں آپ کی خدمت میں ایک نہایت اہم اور نازک مسئلہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جس کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ اُمید ہے کہ آپ مکمل تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کا شرعی حکم بیان فرمائیں گے۔
مسئلہ کی نوعیت: میری شادی کچھ عرصہ قبل ہوئی، لیکن گھریلو مسائل اور زوجہ کے رویے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ (mental stress) اور تکلیف دہ حالات کا سامنا رہا۔ اس دوران مجھے مستقل طور پر ذہنی اذیت (mental torture) ازدواجی نافرمانی اور والدین کی توہین و بے ادبی جیسے واقعات پیش آئے۔ ذہنی کیفیت:ان حالات میں میرا ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ بعض مواقع پر:مجھے یہ شعور نہیں ہوتا تھا کہ میرے سامنے کون ہے؟
میں کیا کہہ رہا ہوں؟بعض اوقات غصے کی شدت سے ذہن ماؤف ہو جاتا، اور بعد میں یاد بھی نہ رہتا کہ میں نے کیا الفاظ کہے۔یہ کیفیت ایسی ہوتی تھی کہ مجھے اپنی باتوں اور جذبات پر کوئی کنٹرول نہ رہتا، اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا جیسے میں اپنے آپ میں نہ ہوں۔ طلاق کے الفاظ:ان ہی ذہنی دباؤ کی حالتوں میں، مختلف مواقع پر:کبھی میں نے کہا: "میں تمہیں طلاق دوں گا" (جو کہ صرف مستقبل کی خبر تھی، کوئی فوری یا قطعی طلاق کا جملہ نہیں تھا)کبھی غصے یا شدید دباؤ میں طلاق کے واضح الفاظ بھی کہہ دیےلیکن اُن مواقع پر نہ میرا ذہن قابو میں تھا، نہ مجھے علم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ، عد میں ہوش میں آنے کے بعد بہت پچھتاوا ہوا، اور سمجھ آیا کہ میں نے کس قدر خطرناک الفاظ ادا کر دیے۔ اہم بات:میری نیت کبھی بیوی کو فوری طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ شدید ذہنی پریشانی اور وقتی جذبات میں یہ باتیں زبان سے نکلیں۔ نہ مجھے شرعی احکام کا علم تھا، اور نہ اس وقت یہ شعور تھا کہ میری باتوں کا نتیجہ کیا ہوگا۔ سوال برائے فتویٰ:کیا ایسی حالت میں دی گئی طلاق، جب کہ انسان کو خود شعور نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، واقع ہو جاتی ہے؟
اگر ایسے مختلف مواقع پر یہ باتیں ہوئیں، تو کیا تین طلاقیں شمار ہوں گی؟
اس کیفیت کے پیش نظر، کیا نکاح باقی ہے یا ختم ہو چکا ہے؟
میں اس معاملے میں سخت ذہنی اذیت کا شکار ہوں، اور شرعی رہنمائی کا طالب ہوں تاکہ کوئی فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ شریعت کی روشنی میں کیا جا سکے۔ آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
والسلام
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مختلف مواقع پر اپنی بیوی کومذکور الفاظ ” میں تمہیں طلاق دوں گا “ کہے ہوں تو ان الفاظ کے کہنے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ ان کا نکاح بدستور برقرار تھا،لیکن پھر اس کے بعد جب سائل نے مختلف مواقع پر اگر چہ غصہ اور دباؤ کی حالت میں طلاق کے صریح کہے ہیں ،اور سائل خود طلاق کےصریح الفاظ کہنے کا اقرار بھی کر رہا ہے،تو ایسی صورت میں سائل نے اگر طلاق کے صریح الفاظ جیسے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں وغیرہ کے ساتھ تین یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہوں تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال للہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( الآیۃ 23، سورۃ البقرۃ)۔
و فی الدر المختار: ( صریحہ ما یستعمل إلا فیہ ) و لو بالفارسیۃ ( کطلقتک و أنت طالق و مطلقۃ ( إلی قولہ) و یقع بھا أی بھذہ الألفاظ و ما بمعناہ من الصریح الخ ( باب الصریح ج 1، ص 247 ، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: و إذا طلق الرجل إمرأۃ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذالک أو لم ترض الخ (الباب السادس فی الرجعۃ ج 1، ص 468، ط: ماجدیۃ ) ۔
و فی تنقیح الفتاوی للحامدیۃ: صیغہ المضارع لا یقع بھا الطلاق إلا إذا غلب فی الحال کما صرح بہ الکمال بن الھمام الخ (کتاب الطلاق ج: 1، ص: 38، ط: دار المعرفۃ )۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلاقات الثلاث فحکمھا الأصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ أیضا حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر لقولہ عزوجل فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ و سواء طلقھا ثلاثا متفرقۃ أو جملۃ واحدۃ الخ ( فصل و أما حکم الطلاق البائن ج 3 ، ص 187 ، ط: سعید ) ۔