کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی کو 13 سال ہوئے ہیں، میرے تین بچے ہیں ،ایک بیٹی ہے جس کی عمر 10 سال ہے ،دو بیٹے ہیں ،ایک کی عمر7 سال اور دوسرے کی 3 سال ہے، 13 سالوں کے درمیان مستقل گھریلو ناچاقی، بدزبانی، بداخلاقی اور بچوں پر عدم دلچسپی ،روز کی لڑائی اور جھگڑوں سے اور بار بار ایک ہی الفاظ کا اصرار کرتی تھی ،مجھے خلع دو، مجھے خلع دو، مجھے خلع دو، میری اہلیہ کے خلع کے مطالبے پر دل برداشتہ ہو کر میں نے علیحدگی اختیار کی ہے ،لہذا میرے نکاح میں جو حق مہر تھا، وہ میں نے ادا کیا ہے ،جو کہ نکاح کے فارم میں تحریری طور پر موجود ہے، 12 مثقال سونا جو میں نے ادا کر دیا ہے جس میں سے ایک تولہ سونا میری غیر موجودگی میں میری اہلیہ کے مطابق گم ہو گیاہےاور ایک تولہ سونا ہم دونوں کے مشورے اور رضامندی سے خرچ ہو گیا ہے اور میری ماہانہ آمدنی 35 ہزار سے 38 ہزار تک ہے ،تو لہذا میرے بچوں کے ماہانہ اخراجات، اور عدت کی رقم، اور حق مہر کی شرعی رہنمائی کی جائے۔
نوٹ: بیوی کے بار بار خلع کے مطالبے کے جواب میں ،میں نے تین مرتبہ یہ الفاظ بولے ”طلاق، طلاق، طلاق “اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے کہ نہیں اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس طرح مہر، باقی اخراجات کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ جب سائل نے اپنی بیوی کے باربار خلع کے مطالبہ پر مذکورالفاظ”طلاق ، طلاق ،طلاق ، کہہ دئے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ با ہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنا ہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام ِعدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، نیز بچوں کی کفالت کے متعلق تفصیل یہ ہیکہ سائل کی جس بیٹی کی عمر دس سال اور جس بیٹے کی عمر سات سال تک پہنچ چکی ہیں ،انہیں والد اپنی تحویل میں لے سکتا ہے، البتہ جس بچے کی عمر تین سال ہے،وہ سات سال کی عمر تک اپنی والدہ کی پرورش میں رہے گا ، بشرطیکہ اس دوران والدہ اس بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ،ورنہ ماں کا حقِ پرورش ختم ہوکر بچہ کی نانی کو یہ حق منتقل ہوجائے گا اور نانی نہ ہونے کی صورت میں بچے کی دادی ،اس کے بعد خالہ اور پھر پھوپھی کو بالترتیب حقِ پرورش حاصل ہوگا ،جبکہ سائل اگر بیوی کا حق مہر اداکر چکا ہے تو وہ بیوی کی ملکیت ہے ، طلاق کی صورت میں اس سے واپسی مطالبہ درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
كما في تنزيل القرآن :(فَإِنْ طَلَّقَها فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زوجًا غيره(البقرة : 230)۔
وفي صحيح البخاري:عن عائشة " أن رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للأول؟ قال: لاحتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول" (کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ح4961،ج5،ص2014،ط:دار ابن کثیر)۔
وفى الهنديه :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل لہ حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج1،ص473،ط:ماجدیۃ)
وفيها ايضاً:أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول،والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد-رحمه الله تعالى-إذابلغت حدالشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين الخ(کتاب الطلاق،الباب السادس عشر في الحضانة،ج1،ص541،ط:ماجدیۃ)۔
وفيها ايضاً:والمعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا،أو ثلاثا حاملا كانت المرأة،أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الاأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها الخ( کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات وفيه ستة فصول الفصل الثالث في نفقة المعتدة،ج1،ص557،ط: ماجدیۃ)۔