کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ.....کو اس کے شوہر مسمی ...... نے کورئیر کے ذریعہ تحریری طلاق نامہ بھیجا ہے، جو اگست کے مہینے میں مجھے ملا ، جبکہ وہ طلاق نامہ 2025/07/14 کو تحریر کیا گیا تھا ، اس میں تین مرتبہ طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، اب معلوم کرنا ہے کہ اس طلاق نامہ کی روشنی میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور میری عدت کب سے ہوگی ؟ 2025/07/14 سے یا جب سے مجھے پیپر ملا ہے؟ اور دوسرے حق مہر کا کیا حکم ہے ؟ جو کہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا ہے، اگر طلاق ہو گئی ہے تو کیا عدت کے بعد میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں ؟
سائلہ مسماۃ .....کے شوہر نے جس تاریخ کو طلاق نامہ تحریر کروایا تھا ، اسی تاریخ سے سائلہ پر اس طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اور سائلہ کی عدّت بھی طلاق نامہ میں درج تاریخ سے ہی شروع ہو چکی ہے ، جوکہ حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل اور غیرِ حاملہ ہو نے کی صورت میں اگرماہواری آتی ہو تو تین ما ہواریاں وگرنہ تین ماہ مدت پوری کرنا لازم ہوگی ، جس کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
اور اگرسائلہ کے شوہر نے عقدِنکاح کےوقت طے شدہ حقِ مہر تاحال ادا نہیں کیا ہو تو طلاق کی صورت وہ مہر شوہر کے ذمہ دین بن چکاہے ، جس کی ادائیگی کے لئے سائلہ کو ان سےمطالبہ کا حق حاصل ہے۔
کما فی الدر المختار: و لو كتب على وجه الرسالة و الخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابی هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة، الخ (کتاب الطالق، ج 3، ص 246، ط: ایچ ایم سعید)-
و فی ردالمحتار: تحت (قوله كتب الطلاق إلخ) قال فی الهندية: الكتابة على نوعين، (إلی قولہ) و إن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق و تلزمها العدة من وقت الكتابة، و إن علق طلاقها بمجیء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابی فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا فی الخلاصة، الخ (کتاب الطالق، مطلب فی الطلاق بالكتابة، ج 3، ص 246، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھدایۃ: "و إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها فی العدة و بعد إنقضائها، و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة أو ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، الخ (كتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، ج 2، ص 92، ط: مکتبۃ إنعامیۃ)-
وفی الھندیۃ: لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه قال بعضهم يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة فی نفسها وهو الطلاق أو الموت، الخ (کتاب النکاح، الباب السابع فی المهر، الفصل الحادی عشر فی منع المرأة نفسها بمهرها والتأجيل فی المهر، ج 1، ص 318، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: (العدۃ) هی انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا فی شرح النقاية للبرجندی، رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا فی فتاوى قاضی خان، الخ (کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدة، ج 1، ص 526، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-