السلام علیکم! میرے سسرال والے مسلسل مجھے سات مہینے سے پریشرائز کر رہے ہیں طلاق دینے کے لیے ۔میری بیگم میرے سسر کے ساتھ گئی اور واپس نہیں آئی۔ جب میں اور میرے گھر والے لینے گئے تو سسر نے بہت بدتمیزی بھی کی میرے اور میرے گھر والوں کے ساتھ اور سامان بھی سارا لے گئے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں کہ طلاق دے دو ۔میری بیٹی نہیں آئے گی۔ اب آپ بتائیں اس میں، میں کیا کروں؟ اس کا کوئی فتوی نکالیں ،میں چھوڑنا نہیں چاہتا ۔میں نے اللہ کی رضا کے لیے نکاح کیا تھا اور میں طلاق نہیں دینا چاہتا۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی بیوی کیوں اس سے طلاق لینا چاہتی ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم صورت مسئولہ میں سائل کاسسراگرواقعۃًکسی معقول وجہ کےبغیرسائل سےاپنی بیٹی کی طلاق کامطالبہ کررہاہے، جبکہ سائل بیوی کے تمام حقوق ادا کر رہا ہو تواُس کایہ مطالبہ شرعاًدرست نہیں ہے،لہذاسائل کےسسرکوچاہیئےکہ وہ اپنی بیٹی کاگھراُجاڑنےکے بجائےبسانےکی کوشش کرے،اورکبھی کبھاراگربالفرض سائل اوراُس کی بیوی یا سائل اور اُس کےسسرال والوں کےدرمیان کوئی چھوٹی موٹی بات یاغلط فہمی ہوبھی جائےتوفریقین اُسےافہام وتفہیم کےذریعےحل کرنےکی کوشش کریں۔
تاہم سائل کاسسراگرسائل کی بیوی کوکوشش کےباوجودسائل کےپاس نہ آنےدیتاہواورعلیحدگی پر ہی مصرہو،تو پھرسائل کیلئے مجبوری کی صورت میں اُسے طلاق دیناجائزہوگااور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگا ،بلکہ سائل کےاِس مکروہ فعل کےارتکاب کابوجھ سائل کےسسرپرہوگا،البتہ اس صورت میں بھی سائل کو ایک ساتھ تین طلاقیں دینا شرعا جائز نہیں ،بلکہ ایک طلاق بائن دے دے تاکہ تجدید نکاح کی صورت میں واپسی ممکن ہو۔