میرے شوہر نے مجھے غصے میں تین بار بولا کہ "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں " ،باتوں باتوں میں بولا کیا میرا نکاح ٹوٹ گیا؟
واضح ہو کہ " میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" کے الفاظ چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں ، اس لئے اس سے بلانیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے تین مرتبہ مذکورہ الفاظ "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" کہے تو اس سےسائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لانہ غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (باب الکنایات،ج:3،ص:299،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی التاترخانیۃ:اذا قالت المراۃ فی المشاجرۃ رھا کن او ازاد کن فقال الزوج:رھا کردم یا ازاد کردم،یقع الطلاق بلا نیۃ (الفصل الرابع:فیما یرجع الی الصریح،ج:4،ص:412،ناشر: رشیدیۃ)
وفی الھندیۃ:والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة(الفصل السابع بالفاظ الفارسیۃ،ج:1،ص:379،ناشر:ماجدیۃ)