طلاق

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کے مہر اور شادی کے موقعے پر دئیے گئے گفٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
88262
| تاریخ :
2025-10-23
معاملات / احکام طلاق / طلاق

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کے مہر اور شادی کے موقعے پر دئیے گئے گفٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: میری بہن مسماۃ فلانہ کی شادی تقریبا سات آٹھ مہینے قبل ہو گئی تھی، اب ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے ،تو معلوم کرنا ہے کہ اب میری بہن کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا عدت کے بعد وہ آزاد ہے خود مختار ہے؟ دوسری بات جہیز کے سامان اور حق مہر کا کیا حکم ہے ؟جو بھی تفصیل ہو تحریر فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شوہر کے انتقال کے ساتھ ہی بیوہ کی عدت شروع ہوجاتی ہے جس کی مدت بیوہ کے حمل سے نہ ہونے کی صورت میں چار ماہ دس دن ہوتی ہے، چنانچہ سائل کی بہن اگر حاملہ نہ ہو تو شوہر کی وفات سے لے کر چار ماہ دس دن، مجموعی طور پر 130 دن تک اس پر عدت وفات گزارنی لازم ہوگی، جب یہ عدت مکمل ہو جائے تو مرحوم کی بیوہ اس کے نکاح سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے گی، اور اپنی بقیہ زندگی کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوگی، جبکہ جہیز کا جو سامان بیوی لے گئی تھی، نیز شادی کے موقع پر جو سونا بطور گفٹ لڑکی کو دیا گیا ،اس سامان کی مالک مرحوم کی بیوہ ہی ہے، یہ سامان مرحوم شوہر کا ترکہ شمار نہیں ہوگا ،تاہم مرحوم شوہرنے جو اپنی کمائی سے گھر کا سامان وغیرہ خریدا ، وہ مرحوم کا ترکہ ہے جوکہ اس کی بیوہ سمیت تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا ضروری ہوگا، اسی طرح اگر شوہر نے بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہو اور شوہر کا انتقال ہوگیا ہو،تو اس عورت کا حق ِ مہر شوہر کے ذمہ واجب الادا قرضہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کے ترکہ میں سے میراث کی تقسیم سے پہلے بیوہ کو ادا کرنا لازم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیۃ: عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولاً بها أو لا (الی قولہ) حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها، كذا في فتح القدير. هذه العدة لاتجب إلا في نكاح صحيح، كذا في السراج الوهاج. المعتبر عشر ليال وعشرة أيام عند الجمهور، كذا في معراج الدراية الخ (کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج: 1، ص: 529، ط: ماجدیۃ)۔
وفیها أیضًا: ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية الخ(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج: 1، ص: 531، ط: ماجدیۃ)۔
وفیها أیضًا: وعلى ‌المعتدة ‌أن ‌تعتد ‌في ‌المنزل ‌الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت لقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن} والبيت المضاف إليها هو البيت الذي تسكنه ولهذا لو زارت أهلها وطلقها زوجها كان عليها أن تعود إلى منزلها فتعتد فيه الخ(باب العدۃ، ج: 2، ص:279، ط: ماجدیۃ)۔
وفیها أیضًا: لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى (الی قولہ) وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك ، كذا في الفصول العمادية الخ (الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج: 1، ص:327، ط: ماجدیۃ)۔
وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام: قال: (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرًا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. وقالا: لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول ومهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط نصيبه من ذلك. وأما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت كما إذا مات أحدهما. ولأبي حنيفة أن موتهما يدل على انقراض أقرانهما فبمهر من يقدر القاضي مهر المثل (قوله: على ما نبينه) يعني في المسألة التي تليها من غير فصل، وهي ما إذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، هذا إذا علم أن الزوج مات أولا أو علم أنهما ماتا معا أو لم تعلم الأولية؛ لأن المهر كان معلوم الثبوت، فلما لم يتيقن بسقوط شيء منه بموت المرأة أولا لا يسقط، وأما إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط منه نصيب الزوج؛ لأنه ورث دينا على نفسه الخ(‌‌كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 378، ط: دار الفكر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88262کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات