السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں مرحوم سجاد احمد کا اپنی اہلیہ سے فون پر جھگڑا ہوا،اور اس کی اہلیہ میکے چلی گئی،مرحوم کی ماں اور بہن اس کی اہلیہ کو منانے اور سمجھانے گئی،لیکن وہ واپس نہ آئی،ادھر سجاد احمد نے سر کو دیوار پر مارا اور اپنی خون آلود تصاویر اہلیہ کو بھیج دی،اور پھر پھانسی کی تصاویر بھی بھیجی،اور اہلیہ نے وہ تصاویر اور اطلاع کسی کو نہیں دی،حالانکہ اگر بیوی اطلاع کرتی،تو سجاد احمد کی جان بچ سکتی تھی،کیونکہ مرحوم کے بھائی اور ماموں خود کشی کے مقام کے قریب ہی رہتے تھے،لیکن اہلیہ نے نہیں بتایا، اور اہلیہ کے پاس مرحوم کے بھائیوں اور ماموں کا رابطہ نمبر بھی موجود تھا،پھر بھی اطلاع نہیں دی، تو اب آیا کہ اس کی بیوی کا قتل میں ہاتھ ہے یا نہیں؟ اور یہ ترکہ میں حصہ دار ہو گی یا نہیں؟نیز یہ بھی بتائیں کہ میت کا ترکہ کتنے حصے میں تقسیم ہو گا،مرحوم کی ایک بیٹی ،چھ بھائی،پانچ بہنیں،والد ،والدہ اور بیوہ یہ سب زندہ ہیں؟
واضح ہو کہ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ کی تصریحات کے مطابق اگر کوئی وارث اپنے مورث کو قتل کردے، تو وہ صرف اس قتل کی صورت میں میراث سے محروم ہوگا ، جس کے نتیجے میں قاتل پر قصاص یا کفارہ لازم آتا ہے، چنانچہ اس اصول کی روشنی میں اگر کوئی شخص کسی وارث کے قتل میں براہِ راست شریک نہ ہو، تو وہ شخص شرعاً میراث سے محروم نہیں ہو تا ،لہذا صورتِ مسئولہ بیوی کا موبائل فون پرجھگڑے کے بعد، شوہر کے خون آلود اور پھانسی کی تصاویر دیکھنے کے باوجود، شوہر کے خودکشی کی دھمکی سنجیدگی سے نہ لینا اوران کے رشتہ داروں کو بروقت اطالاع کر کے ان کو خود کشی سے بچنے کی شش نہ کرنا ،اگر چہ درست طرزِ عمل نہیں تھا، لیکن اس لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے اسے قاتل قرار نہیں دیا جا سکتا ،لہذا شوہر کی خودکشی کی وجہ سے بیوی اپنے میراث سے محروم نہ ہو گی، بلکہ دیگر ورثاء کی طرح بیوہ بھی شوہر کے ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کے بقدر حقدار ہو گی (جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم ( سجاد احمد ) کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابقاس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائداد سونا ، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اور اگر کسی اور نے تبرعاً یہ مصارف ادا کئے ہو، تو اب یہ ترکہ سے منھا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چوبیس ( 24) حصے بنائے جائیں،جن میں سے بیوہ کو تین ( 3) ،بیٹی کو بارہ (12)،والد کو ( پانچ)اور والدہ کو چار ( 4)حصے دئے جائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہو رہا ہے۔ مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں۔جبکہ صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے بہن بھائی شرعاً اس کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہونگے۔
مسئلہ24
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹی والد والدہ
3 12 5 4
12.5% 50% 20.833% 16.666^
کما فی الھندیۃ: والتسبب إلى القتل لا يحرم الميراث كحافر البئر وواضع الحجر وصاب الماء في الطريق ونحوه وكل قتل أوجب القصاص أو الكفارة كان مباشرة فيحرم به الميراث وما لا يوجب ذلك فهو تسبب لا يحرم الميراث الخ (الباب السادس في ميراث أهل الكفر،ج 6،ص 454،ط: ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار : (والقتل) الموجب للقود أو الكفارة الخ
و فی الشامیۃ تحت : (قوله الموجب للقود أو الكفارة)( الی قولہ ) فخرج القتل بسبب فإنه لا يوجبهما الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6،ص 767،ط: سعید)۔
و فی تبیین الحقائق: والقتل الذي يمنع الإرث هو الذي يتعلق به وجوب القصاص أو الكفارة، وما لا يتعلق به واحد منهما كالقتل بسبب أو بقصاص لا يوجب الحرمان لأن حرمان الإرث عقوبة فيتعلق بما تتعلق به العقوبة، وهو القصاص أو الكفارة الخ( کتاب الفرائض،ج 6،ص 240،ط:المطبعة الكبرى الأميرية)۔