محترم جناب مفتی صاحب !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !سلام مسنون کے بعد عرض یہ ہے کہ دلاور نے اپنے گھر میں ایک ہی ٹائم اپنی بیوی کو تین مرتبہ کہا ہے کہ ”تو مجھ پر طلاق ہے“ ، کیا طلاق واقع ہوگئی یا نہیں ہوئی؟کیا یہ ایک طلاق واقع ہوئی یا تین طلاق واقع ہوئی؟ نیز اسکی بیوی چار(4) ماہ سے پریگننٹ بھی ہے ،اگر اس کو طلاق واقع ہوئی تو یہ بچہ کی پیدائش تک بقایا دن ماں باپ کے گھر گزارے یا خاوند کے گھر گزارے؟ اور اسکی عدت کب تک ہوگی؟آپ قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ حمل کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مسمی ”دلاور نے“واقعۃً ایک ہی وقت میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ کہ” تو مجھ پر طلاق ہے “تین مرتبہ کہہ دیے ہوں،تواس سے مسمی ”دلاور “کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام ِعدت گزارنے کےبعد(جوکہ مذکور صورت میں وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش تک ہے)دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔ مسمی ”دلاور“کی مطلقہ کو اپنی عدت کا دورانیہ اپنے سابق شوہر کے گھر پر ہی گزارنا ضروری ہے،اس لیے بلاعذرِ شرعی شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے میکے میں عدت گزارنے سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (سورۃ البقرۃ ایت نمبر 230)۔
قال اللہ تعالی: واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن (سورۃ الطلاق، آیت نمبر 4،)۔
وفی صحیح مسلم: عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت طلق رجل امراتہ ثلاثا فتزوجھا رجل ثم طلقھا قبل أن یدخل بھا فأراد زوجھا الاول أن یتزوجھا،فسئل رسول اللہ ﷺ عن ذلک فقال لا حتی یذوق الآخر من عسیلتھا ما ذاق الأول الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 736، ط: البشریٰ)۔
وفی الھندیۃ: وإن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحییحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (الباب السادس فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 1، ص: 472، ط: ماجدیہ)۔
وفی الھندیۃ: إذا قال لإمرأتہ أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج: 1، ص: 355، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل أو تخاف) انهدامه أو (تلف مالها أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ (فصل فی الحداد، ج: 3، ص: 536، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیة: وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان الخ (كتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدة، ج1، ص 528، ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً:على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي. لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان. إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أوكان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل الخ (الباب الرابع عشر فی الحداد،ج: 1، ص: 535، ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (وحل طلاقهن)أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطئ) لان الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 223، ط:ایچ ایم سعید)۔
وفیہ ایضاً: (و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها) الخ (باب العدۃ، ج: 3، ص: 511، ط: ایچ ایم سعید)۔