السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ میری 4 سال پہلے شادی ہوئی تھی۔یہ شادی میری مرضی کے خلاف کروائی گئی،میرے والد صاحب نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ نے یہ شادی نہیں کی تو سب سے پہلے میں (اپنے حقوق کو معاف نہیں کرونگا اور میرے گھر میں بھی آ پ کی جگہ نہیں ہے) دراصل میری اپنی والدہ محترمہ شادی سے ایک سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ، آ پ لوگوں سے بھی دعا کی درخواست ہے۔میرے والد صاحب نے دوسری شادی کرلی ۔اور اسکے ایک سال بعد میری شادی بھی کردی ۔وہ لڑکی جسمانی طور پر معذور نکلی۔ دوسری وہ بلکل صفائی کا خیال نہیں رکھتی،نہ اپنے جسم کی اور نہ گھر کی، میں نے اسے بہت سمجھایا ڈرایا، لیکن میں ناکام ہوگیا اور سب سے بڑی بات وہ میری سوتیلی ماں کو بلکل پسند نہیں ہے ، ہر روز گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں اگر میں صاف بات کروں تو مُجھے بلکل پسند نہیں، میں ذہنی ڈیپریشن کا شکار ہوں ، ان چار سالوں میں ایک دن بھی وہ مجھے کبھی اچھی نہیں لگی اور ان چار سالوں میں، میں نے اس کے لیے کوئی بھی چیز نہیں خریدی ، مطلب کپڑے جوتے کوئی چیز نہیں ،میرا والد صاحب مجھے دلاسہ دے رہے ہیں کہ میں آپ کی دوسری شادی کردونگا لیکن مجھے پتہ ہے کہ میں دونوں کا حق ادا نہیں کرسکتا ،کیوں کہ ایک پسند اور ایک نا پسند برابر نہیں ہو سکتا ۔میرا مطلب کہ میرا گزارا بلکل مشکل ہے ۔ کیا میں طلاق دے سکتا ہوں؟ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں ۔شکریہ!
واضح ہو کہ أحادیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دینے کو "أبغض الحلال" یعنی مباح اور حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز قرار دیا ہے ،لہذا اگر کسی شخص کی ازدواجی زندگی باہمی ناچاقی اختلافات اور ناپسندیدگی کا شکار ہو چکی ہو ،تو اولاً اس کو چاہیئے کہ وہ طلاق دینے کے بجائے حتی الامکان سمجھانے اور اصلاح کے طریقے کو اپنا لے اور صبر سے کام لے اور خاندان کے معزز لوگوں کے ذریعہ ازدواجی زندگی کے نبھاؤ کی صورت پیدا کرے اور بلا وجہ طلاق ہرگز نہ دے لہذا سائل کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے لیکن اگر سائل نے تمام طریقے آزما لیے ہوں اور ما سوائے تفریق کے اور کوئی صورت باقی نہ رہی ہو تو ایسی شدید ضرورت کے موقع پر شریعت نے طلاق کو مباح قرار دیا ہے اور مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے۔ البتہ طلاق دینے میں بھی شریعت کے ہدایت کے مطابق صرف ایک طلاق پر اکتفا کر کے عقد ختم کر دی جائے جس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو اسے صرف ایک طلاق دے کر چھوڑ دیا جائے عدت گزرنے کے بعد وہ خود نکاح سے خارج ہو جائے گی اور کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ازاد ہوگی۔