السلام علیکم ! میرا نام اسامہ ہے ،میں ہارون آباد کا رہنے والا ہوں مجھے آپ کی مدد درکار ہے ایک شرعی مسئلہ میں ۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ: میرے اور میری بیوی کا نکاح ہوچکاہے، نکا ح نامہ ڈیجیٹل بھی بنا ہوا ہےاور پاکستان کے قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہے ،لیکن رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی ۔ہم دونوں مل چکے تھے ،ایک فون کال پر ہماری لڑائی ہو گئی ،جذباتی حالت میں ،میں نے غصے میں "طلاق"،"طلاق"،"طلاق"کے الفاظ ایک ہی سانس میں بول دیئے،اس کے بعد پانچ دن ہو چکے ہیں ہم دونوں بہت محبت کرتے ہیں اور ایک ساتھ زندگی گزارنے کی نیت رکھتے ہیں ۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ طلاقیں شریعت کے مطابق واقع ہوچکی ہیں ؟اگر واقع ہو چکی ہوں تو کیا ابھی ہم ساتھ رہ سکتے ہیں یا نیا نکاح کرنا ہوگا ؟پاکستان کے قانون کے مطابق اس کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اس مسئلے کا تفصیلی فتوی دے تاکہ ہم اپنی زندگی آگے صحیح راستے پر چلا سکیں ۔اللہ آپ کو خیر سے اجر دے ۔
سائل اور اس کی بیوی کو نکاح کے بعد اگر ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر آیا ہو، جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور اس کے بعد سائل نے موبائل فون پر بیوی کو تین دفعہ طلاق کے الفاظ کہہ دیئے ہوں ،تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا ،اور طلاق واقع ہونے کے بعد دونوں کا ایک ساتھ رہنا اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا سخت گناہ اور حرام ہے، لہذا دونوں کو چاہیئے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں جبکہ عدت گزارنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان شخص سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلےشوہرکا انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے، اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےتقرر کےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کرتے ہوئےعقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں۔