السلام علیکم
ایک لڑکا اور لڑکی نے گواہان کی موجودگی میں ایک کاغذ پر ہاتھ سے بنے ہوئے نکاح نامہ پر انگھوٹا لگایا، دستخط کیے ا یجاب و قبول کیا، لڑکے نے 5000 حق مہر ادا کیا اور کچھ عرصہ بعد لڑکی نے والدین کی مرضی پر ایک اور جگہ نکاح کے اوپر نکاح کرلیا اور کہا کہ وہ تو صرف ایک مذاق تھا اور میرا یہ نکاح زبردستی کروایا گیا ہے اب اس کی رخصتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فتویٰ جاری فرمایا جائے، جزاک اللہ
السلام علیکم
میرے شوہر نے مجھے زبانی کلامی نو بار طلاق کا لفظ بولا ہے لیکن کاغذات میں اس کی بیوی ہوں اور عرصہ چھہ سال سے مکمل لا تعلق ہیں، کیا میں نکاح کر سکتی ہوں یا نہیں؟ تحریری جواب صادر فرمایا جائے، تاکہ میں نکاح کر سکوں جزاک اللہ ۔
بسمہ تعالی ،صورت مسئولہ میں اگر مذکور لڑکی نے باقاعدہ گواہاں کی موجودگی میں پہلے لڑکے کے ساتھ نکاح کر لیا ہو اور وہ ان کا کفؤ بھی ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ یہ نکاح لڑکی کے والدین کی اجازت کے بغیر ہو، تب بھی منعقد ہو چکا ہے، اب اس شوہر سے باقاعدہ خلع یا طلاق لینے کے بعد اس کی عدت مکمل کرنے سے قبل دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا جائز نہیں، اور پہلے نکاح کا علم ہوتے ہوئے دوسرا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا، لہذا اس لڑکی اور اس کے والدین پر لازم ہے کہ اولا پہلے کیا ہوا نکاح ختم کریں، اس کے بعد عدت مکمل کرنے پر ہی دوسری جگہ نکاح کا اہتمام کرے، جبکہ نکاح ختم ہونے کے لیے طلاق کا باقاعدہ تحریری طور پر دینا اور قانونی دستاویزات میں رجسٹر کرانا ضروری نہیں، بلکہ فقط زبانی طور پر طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اگر شوہر نے واضح اور صریح الفاظ (جیسے تجھے طلاق ہے یا طلاق دیتا ہوں) کے ذریعے اپنی بیوی کو تین یا اس سے زائد مرتبہ طلاق دیدی ہو، تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اور عورت عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ قانونی دستاویزات میں یہ طلاق رجسٹر کرا کر اگر یہ نکاح ختم نہ کرایا گیا ہو، تو دوسری جگہ نکاح کرتے وقت قانونی مشکلات اور بدگمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے دوسری جگہ نکاح سے قبل قانونی کا روائی مکمل کر لی جائے، تاکہ بعد کی پریشانیوں سے بچا سکے۔
كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 9)
وفيه أيضا: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر (3/14) ... ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل إذ لم يحتج لنية به يفتى. (3/14-15، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما.(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف. وفي رد المحتار تحت (قوله: ليتحقق رضاهما) أي ليصدر منهما ما من شأنه أن يدل على الرضا إذ حقيقة الرضا غير مشروطة في النكاح لصحته مع الإكراه والهزل رحمتي. (3/21-23)
وفي الهندية: (الباب الأول في تفسيره شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه) ... (ومنها) الشهادة (كتاب النكاح،1/267)
وفيه أيضا: ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع، (كتاب النكاح 1/270)
وفيه أيضا: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة (كتاب النكاح، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص: 280، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) وفي رد المحتار تحت (قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 232-233، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: (وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا. (كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 349، ط: مكتبة ماجدية)