ایک شخص تین دفعہ طلاق دے دیتا ہے اور فتوی لاتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور ہاتھ میں قرآن اٹھا کر بولتا ہے کہ میری نیت یہ نہیں تھی تو کیا کیا جائے ؟
واضح ہو کہ واضح اور صریح الفاظ میں دی جانے والے طلاقوں کے وقوع کے لئے نیت ضروری نہیں اور نہ ہی قرآن کی حلف اٹھانے کی وجہ سے وقوع طلاق متاثر ہوتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو رخصتی اور خلوت صحیحہ کے بعد واضح اور صریح الفاظ میں تین طلاقیں دیدیتا ہے تو اس سے اگرچہ اس کی نیت طلاق دینے کی نہ ہو ، تب بھی اسکی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]۔
و فی سنن ابی داؤد : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال ثلٰث جدھن جد و ھزلھن جد النکاح و الطلاق و الرجعۃ الخ (کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 919، ط: البشری)۔
و فی رد المحتار: لأن الصریح لا یحتاج الی النیۃ الخ (باب الصریح، ج: 3، ص: 249، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین : صریح و کنایۃ، فالصریح: قولہ أنت طالق، و مطلقۃ،و طلقتکِ، فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی؛ لأن ھذہ الألفاظ تستعمل فی الطلاق، و لا یستعمل فی غیرہ، فکان صریحاً،و أنہ یعقب الرجعۃ بالنص. و لا یفتقر إلی النیۃ لأنہ صریح فیہ، لغلبۃ الاستعمال الخ (باب ایقاع الطلاق، ج: 2، ص: 61، ط: البشری)۔
و فی بدائع الصنائع: و اما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک، وزوال حل المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر، لقولہ عز و جل (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ سواء طلقھا ثلاثا متفرقا أو جملۃ واحدۃ الخ(فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط ماجدیۃ)۔