میرے شوہر نے طلا ق پپر پر دستخط کر دیے ہیں لیکن مجھے نہیں دیے نہ ہی بتایا، کسی طرح مجھے پتہ چل گیا ۔اب کیا طلا ق ہو گئی ہے ؟کیا رجوع ہو سکتا ہے؟
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے،اسی طرح الفاظِ طلاق تحریر کر نے یا تحریری طلاق نامہ پر دستخط کر نے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،نیز وقوعِ طلاق کے لئے الفاظ ِطلاق کا بیوی کے سامنے بولنا یا طلاق نامہ اسے ارسال کرنا بھی ضروری نہیں،لہذا سائلہ کے شوہر نے جس وقت طلاق نامہ پر دستخط کردیے ہیں ،تو اسی وقت سے ہی سائلہ پر طلاق نامہ میں درج تمام طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، لہذا اگر طلاق نامہ میں واضح الفاظ طلاق تین مرتبہ درج ہو ں،اور یہ طلاق ازدواجی تعلق یا خلوتِ صحیحہ کے بعد دی گئی ہو، تو سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،تاہم اگر الفاظِ طلاق یا تعدد اس سے مختلف ہو تو طلاق نامہ کی کاپی ارسال کر نے کے بعد اسےدیکھ کر حکم شرعی سے آگاہ کیاجاسکتاہے۔
کمافی ردالمختار: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتاب (كتاب الطلاق، ج:3، ص:246، ط:سعيد)
وفیہ ایضا:"وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو(كتاب الطلاق ج: 3، ص: 246، ط:سعید)
وفی الدر المختار:(وتنقطع) الرجعة (إذا طهرت من الحيض الأخير) يعم الأمة (لعشرة) أيام مطلقا (وإن لم تغتسل ولأقل لا) تنقطع (حتى تغتسل) ولو بسؤر حمار لاحتمال طهارته مع وجود المطلق، لكن لا تصلي لاحتمال النجاسة ولا تتزوج احتياطا(باب الرجعۃ،ج:3،ص:403،ط:سعید)
وفي البدائع الصنائع؛وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق، ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلا لا يصدق(کتاب الطلاق،ج:3،ص:109،ط:سعید)