السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! اگر کوئی بندہ شادی شدہ ہو، اور اس کے بعد سالی یا ساس کے بارے میں اس کے ذہن میں غلط خیال آئے، اور اس کی وجہ سے وہ مشت زنی بھی کرلے اور فراغت بھی ہو جائے ،تو کیا اس سے اس کی اپنی بیوی کے ساتھ نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ اور مزید یہ کہ ایسے خیالات سے بچنے کیلئے کوئی آسان سا وظیفہ بتائیں، تاکہ ہر وقت کر سکے۔
اگر کوئی شخص اپنی ساس اور سالی کا ذھن میں غلط تصور کر کے مشت زنی کر لے، تو اس سے اگر چہ اس کے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہو گا،بلکہ نکاح تو بدستور قائم رہے گا، لیکن اس فعل کی وجہ سے یہ شخص گنہگار ہوگا،جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے اس عمل سے بچنے کا پختہ عزم و ارادہ لازم ہو گا،جبکہ ایسے برے خیالات اور وساوس سے بچنے کے لیے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور ہر وقت با وضو رہنے کی کوشش کا اہتمام کرنا چاہیئے،اور ساتھ ساتھ (1) اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم (2) ) رَبِّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ. وَأَعُوْذُبِكَ رَبِّ أَنْ یَّحْضُرُوْنَ.(سورة المومنون آیت:97. 98)(ترجمہ: اے میرے رب! میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اور میں ان کے قریب آنے سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں) کا بھی ورد کرے، انشاء اللہ امید ہے برے خیالات سے خلاصی ہو جائے۔