السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ! جماعت حاصل کرنے کے لیے وقت سے پہلے ملازمت سے نکلنا کیسا ہے؟
واضح ہوکہ ملازم اپنے متعین اوقاتِ ملازمت میں آجر (مالک/ادارے) کے حقوق کا پابند ہوتاہے۔ تاہم شریعت نے اس کے لیے فرض نماز اور سننِ مؤکدہ کے بقدر وقت کو اوقاتِ ملازمت سے مستثنیٰ رکھاہے، جیسے دیگر طبعی ضروریات (استنجا وغیرہ) کے لیے وقت مستثنیٰ ہوتا ہے،لہذا نماز با جماعت مسجد میں ادا کرنا چونکہ سنتِ مؤکدہ ہے، بلا عذرِ شرعی جماعت کی نمازچھوڑنا جائزنہیں ہے ۔البتہ مسجد کی جماعت پانے کے لیے ملازمت کے وقت سےصرف اسی قدرپہلے نکلناچاہیےجس میں طہارت، وضو اور فرض نماز سے پہلے کی سننِ مؤکدہ بآسانی ادا ہو سکیں،اس سے زیادہ وقت پہلے نکلنا جبکہ ملازمت کے اوقات ابھی باقی ہوں اور ادارے کی طرف سے اجازت بھی نہ ہو،شرعًا درست نہیں۔ لہٰذا جماعت کا اہتمام ضرور کیاجائے،مگر اس کے لیےصرف ضرورت کے مطابق وقت خرچ کیاجائے ،اس سے زائد وقت لیناجائز نہیں جس سے بہرصورت احترازلازم ہے۔
کما في رد المحتار (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل و لا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: و في فتاوى الفضلي و إذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة و لا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة و في فتاوى سمرقند: و قد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. و اتفقوا أنه لا يؤدي نفلا و عليه الفتوى.۔(مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج:6، ص 70 ط: سعید)-