میرے شوہر نے میرے بھائی سے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ حقِ مہر میں اِن کو دے چکا ہوں، طلاق میں اِن کو دے دوں گا، اُس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، پھر اُس کے ایک مہینے بعد کہا کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر میں نے اسے ایک طلاق دی تھی، اب جو دوں گا تو دوسری ہوگی، تو مجھے بتائیں کہ مجھے کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟ میں اس حوالے سے بہت پریشان ہوں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے پہلی دفعہ سائلہ کے بھائی کو مذکورہ الفاظ کہے ہوں’’حقِ مہر میں اِن کو دے چکا ہوں، طلاق میں اِن کو دے دوں گا‘‘ تو یہ الفاظ چونکہ مستقبل میں طلاق کے عزم اور ارادے کے اظہار کے ہیں، لہٰذا ان الفاظ کے کہنے سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد سائلہ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ اگر ایک بار کہے ہوں، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی،جس کےبعدشوہرکو عدت کے دوران رجوع کاحق حاصل تھا ، لہذا اگردوران عدت سائلہ کا شوہررجوع کرچکاہوتووہ رجوع شرعابھی درست ہوچکاہےپھر اس کے بعد سائلہ کے شوہر کےجو الفاظ’’اللہ کو حاضر ناظر جان کر میں نے اسے ایک طلاق دی تھی‘‘ کہے،وہ چونکہ ماضی میں دی گئی طلاق کی خبردینے پر مبنی الفاظ ہیں اس لئے اس سے سائلہ پرشرعاکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،سائلہ اوراس کے شوہرکانکاح بدستورباقی ہے، سائلہ پر سابقہ فقط ایک طلاق واقع ہوئی ہے اور آئندہ کے لیے سائلہ کے شوہر کے پاس دوطلاقوں کا اختیار باقی ہے ، لہٰذا طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی الھندیۃ: و إذا طلق الرجل إمرأۃ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذالک أو لم ترض الخ (الباب السادس فی الرجعۃ ج 1، ص 468، ط: ماجدیۃ ) ۔
و فی تنقیح الفتاوی للحامدیۃ: صیغہ المضارع لا یقع بھا الطلاق إلا إذا غلب فی الحال کما صرح بہ الکمال بن الھمام الخ (کتاب الطلاق ج: 1، ص: 38، ط: دار المعرفۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلاقات الثلاث فحکمھا الأصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ أیضا حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر لقولہ عزوجل فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ و سواء طلقھا ثلاثا متفرقۃ أو جملۃ واحدۃ الخ ( فصل و أما حکم الطلاق البائن ج 3 ، ص 187 ، ط: سعید )۔