مفتی صاحب! میری والدہ نے اپنا ایک مکان دس لاکھ روپے میں بیچا ہے، اور میری تین بہنیں ہیں، تو مفتی صاحب! میری والدہ زندہ ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان دس لاکھ روپے میں میرا کوئی حق ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو کتنا بنتا ہے، جبکہ والدہ حیات ہیں؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں، مرضِ الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل، اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے، اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسے اس تقسیم پر مجبور کرے،البتہ اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلا جبر و اکراہ، محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار حاصل ہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ(گفٹ) کہلائے گا، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے، وہ رکھ کر باقی تمام مال و جائیداد تمام اولاد( بیٹوں اور بیٹیوں) کے درمیان برابر تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنا دے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو سکے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر وہ مکان سائل کی والدہ کی ذاتی ملکیت تھا، مرحوم شوہر کا ترکہ نہیں تھا، تو ایسی صورت میں سائل کی والدہ اپنی زندگی میں تمام مال و جائیداد، بشمول فروخت شدہ مکان کی رقم کی از خود مالک ہیں، ان کی اولاد میں سےکسی کو بھی ان سے حصے وغیرہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جس سے احتراز چاہیے،البتہ اگر سائل کی والدہ برضا و رغبت اپنا مال و جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انہیں اس کا اختیار ہے، نیز اس تقسیم کے دوران اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی کمزوری ،معاشی حالت، دینداری یا خدمت کے صلہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ اضافی دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے، تاہم کسی کو بلاوجہ بالکلیہ محروم کرنا مناسب نہیں، جس سے اجتناب چاہیے۔
کما فی صحيح البخاري: عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما وهو على المنبر يقول ....... (الی قولہ) أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته، (باب الإشهاد في الهبة،ج:3، ص:158)-
وفيالھدایۃ: الھبۃ عقد مشروع لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام:تھادوا تحابوا وعلی ذلک انعقد الإجماع، وتصح بالإیجاب والقبول والقبض، أما الإیجاب والقبول فلأنہ عقد، والعقد ینعقد بالإیجاب والقبول، والقبض لا بد منہ لثبوت الملک، وقال مالک رحمہ اللہ: یثبت الملک فیہ قبل القبض اعتبارا بالبیع، وعلی ھذا الخلاف الصدقۃ، ولنا قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لا تجوز الھبۃ إلا مقبوضۃ‘‘.(کتاب الھبۃ: ٣/ ٢٨٥:رحمانیۃ)-