میرے شوہر نے کئی دفع ( کبھی ہوش میں کبھی نشے میں ) مجھ سے طلاق کا لفظ کہدیا اکثر اگلی صبح معافی مانگ لیتا اور ہم رجوع کر لیتے کبھی رات کو جنسی رویہ ہو جا تا، میں ابھی اسی گھر میں رہ رہی ہوں لیکن بہت الجھن میں ہوں کہ ہمارا نکاح برقرار ہے یا طلاق ہو چکی ہے ۔
برائے مہر بانی کسی مفتی سے لکھی ہوا فتوی یا ہدایات دیں کہ اس صورت میں، میں کیا کروں ؟کیا نکاح ٹوٹ چکاہے؟ عدت کیسے معلوم کروں اگر طلاق ہوئی تو آگے کیا کرنا ہے کیا دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ دو بارہ نکاح کر لیتے ہیں کیا یہ حلال حال ہے ،مہر بانی سے بتا دیں ۔
صورت مسئولہ میں سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے شوہر نےکن الفاظ کے ساتھ کتنی مرتبہ طلاق دی ہے،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم جس طرح کہ عام حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے اسی طرح نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طورپر کہ سائلہ کے شوہر نے اسے مختلف مواقع پرمجموعی طور پر تین مرتبہ یا اس سے زائدبار صریح الفاظ مثلا میں تمہیں طلاق دیتاہوں وغیرہ کے ذریعے تین سے زائد طلاق دیدی ہوں اور ان طلاقوں کے درمیا نی عرصہ میں وہ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہتے رہے ہوں تو سائلہ پر شرعاً تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیارکریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گزقائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے جبکہ حکم شرعی سے لاعلمی کی بناء پر اگر وہ دونوں ساتھ رہتے رہے ہو تو ا س علیحدگی کے بعد سے سائلہ پر عدت طلاق گزارنی لازم ہو گی، چناچہ اس عدت کے ختم ہو نے پر سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
وفی قولہ تعا لی ومطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء الآیہ(228 )
وکما فی رد المختار وان کان سکرہ بطریق محرم لا یبطل تکلیفہ فتلتزم الاحکام و تصح عباراتہ من الطلاق والعتاق والبیع والاقرار وتزویج الصغار من کفء والاقراض والاستقراض لان العقل قائم ( ج : 3 ص : 239 ناشر سعید)
وکما فی الھندیۃ اذا طلاق الرجل امراتہ طلاقا بائنا او رجعیا ااو ثلاثاا ووقعت الفرقۃ بینہما بغیر طلاق وھی حرۃ ممن تحیض فعدتہا ثلاثۃ اقراء (ج:3 ص : 526 ناشر رشیدیہ)
وفیہ أیضاً إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا(ج: 1 ص : 473 ناشر ماجیدیہ)
وکما فی مجمع الانہر ویقع طلاق کل زوج عاقل بالغ (ج:1 ص:384 ناشر دار احیاء الثرات العربی)