کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کچھ گھریلو ناچاقی کے دوران اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ جملہ بول دے ”تہ زمانہ خلاصہ ئے، چہ چرتہ زے نوزہ ، تہ زمانہ دہ سلور پنزو کالو نہ مخکے خلاصہ ئے ۔ چہ چرتہ زے نوزہ “
جس کا اردو ترجمہ یہ بنتا ہے کہ “ تم مجھ سے چھوٹ گئی ہو یا میں نے تمہیں چھوڑدیا ہے جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ، تم مجھ سے چار پانچ سال پہلے چھوٹ گئی ہو ، جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ “
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ، اور ایسی خاتون کے لیے اب کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کا گھریلو ناچاکی کے دوران اپنی بیوی کو کہا گیا جملہ ”تہ زمانہ خلاصہ ئے چہ چرتہ زے نوزہ ، تہ زمانہ دہ سلور پنزو کالو نہ مخکے خلاصہ ئے ۔ چہ چرتہ زے نوزہ “ ترجمہ : میں نے تمہیں چھوڑدیا ہے جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ، تم مجھ سے چار پانچ سال پہلے چھوٹ گئی ہو ، جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ “ ہمارے عرف میں طلاقِ صریح کے لیے مستعمل ہے ۔ لہذا جب مذکور شخص نے اس جملے کو تین بار دھرا کر اپنی بیوی کو کہہ دیا تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے۔ جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ( البقرۃ : 230 )-
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:1 ، ص: 473، ناشر: ماجدیۃ )-
و فی الدر المختار : ( کنایتہ ) عند الفقھاء ( ما لم یوضع لہ ) أی الطلاق (واحتملہ) وغیرہ ( و ) الکنایات ( لا تطلاق بھا ) قضاء ( إلا بنیۃ أو دلالۃ حال ) و ھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب إلخ ( باب الکنایات، ج 3، ص 297، ط سعید )-
و فی الدر المختار أیضاً: سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له اھ
و فی رد المحتار تحت: (قوله سرحتك) من السراح بفتح السين: وهو الإرسال أي أرسلتك لأني طلقتك أو لحاجة لي، وكذا فارقتك لأني طلقتك أو في هذا المنزل نهر (قوله لا يحتمل السب والرد) أي بل معناه الجواب فقط ح أي جواب طلب الطلاق أي التطليق فتح (قوله تأثيرا) تمييز محول عن الفاعل: أي يتوقف تأثير الأقسام الثلاثة على نية ط (قوله للاحتمال) لما ذكرنا من أن كل واحد من الألفاظ يحتمل الطلاق وغيره والحال لا تدل على أحدهما فيسأل عن نيته ويصدق في ذلك قضاء بدائع اھ ( باب الکنایات، ج:3، ص: 301، ناشر: سعید )-
و فی حاشیۃ ابن عابدین: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي اھ ( باب الکنایات، ج: 3، ص: 299، ناشر: سعید )-