طلاق

زبردستی طلاق نامہ پر دستخط کروانے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
88469
| تاریخ :
2025-10-31
معاملات / احکام طلاق / طلاق

زبردستی طلاق نامہ پر دستخط کروانے سے طلاق کا حکم

8 اپریل 2025 کو میرے سسرال والوں نے میری بیوی کی ڈیلوری پر مجھے ہسپتال آکر بیوی کے والد نے انتہائی نازیبہ گالم گلوچ، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور ہسپتال سے فارغ ، 16 اپریل ہونے کے بعد جب گھر پہنچا تو وہاں بھی بیوی کے بھائی اور والد نے جب بات نہ بنی تو گالم گلوچ کی اور ایمبولینس واپس لے گئے۔ جبکہ میری بیٹی میرے پاس چھوڑ گئے، اس کے بعد میں نے ان پر ایف آئی آر کروائی۔29جون 2025 کو میری بیوی نے مجھ پر حقِ مہر اور خرچے کا دعوی ٰکر دیا، جس میں سب جھوٹ لکھا ، جو فیملی کورٹ میں ہے۔16 اگست تک میری بیوی میرے پاس نہیں آئی، اپنے والد کے پاس رہی ، اور 16 اگست کو وکیل نے طلاقِ بائن والا اسٹام پیپر بنوایا، جس پر میں نے ان سب لڑائی جھگڑاوں اور قتل کی دھمکیوں کے بعد دستخط کر دئیے، جبکہ میرا ارادہ یا نیت نہیں تھی اور نہ زبان سے کوئی لفظ ادا کیا۔ لہٰذا مجھے بتایا جائے کہ کیا میری ایک طلاق واقع ہوئی یا نہیں ہوئی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غائب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ سائل کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی خلافِ حقیقت اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طور کہ سائل سے اسٹام پیپر پر دستخط لیتے وقت اس کے سسرال والوں کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کی نوعیت ایسی تھی کہ اس سے سائل کو واقعی اپنی جان جانے یا کسی عضو کے تلف ہونے کا غالب گمان تھا، یعنی حقیقی اکراہِ ملجی کی صورت پیدا ہوگئی تھی، تو اس حالت میں محض جان بچانے کی خاطر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، خصوصاً جبکہ زبان سے کوئی لفظ بھی ادا نہیں کیا گیا ہو، تاہم اگر سسرال والوں کی طرف سے دی گئی دھمکیاں محض زبانی نوعیت کی تھیں، اور ان میں کوئی ایسا پہلو نہ تھا جس سے سائل کو جان جانے یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا غالب گمان ہو، تو ایسی دھمکی شرعاً اکراہِ ملجی میں داخل نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس حالت میں طلاق نامہ پر سائل کا دستخط کرنا اقرارِ طلاق کے زمرے میں آئے گا، اس صورت میں اسٹام پیپر میں جتنی اور جس نوعیت کی طلاقیں درج ہوں، وہ واقع ہوجائیں گی۔ چونکہ سائل نے سوال میں مذکورہ نوعیت اور کیفیت میں سے کسی کی صراحت نہیں کی، اس لئے اس کے متعلق حتمی حکم بیان کرنے کی بجائے اصولی حکمِ شرعی بیان کردیا گیا ہے، چنانچہ سائل دیانتداری اور محاسبۂ اعمالِ آخرت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی جو بھی کیفیت ہو، اس کے مطابق عمل کرلے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ۔ (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إیقاع ما ھدد بہ سلطانا أو لصا) أو نحوہ (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و)الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ۔ (و) الثالث: (كون الشئ المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا عما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الاشخاص، فإن الاشراف يغمون بكلام خشن، والارذال ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح إلخ۔ (کتاب الإکراہ،ج 6، ص 128، 129، ط:سعید)۔
وفیہ أیضاً: وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لاتطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية (إلخ۔(كتاب الطلاق، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه، ج:3، ص:236، ط:سعید)
و فی بدائع الصنائع: وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنھم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا إلخ۔ (فصل فی بیان أنواع الإکراہ، ج 7، ص 175، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی البحر الرائق: وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقھا فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع إلخ۔ (کتاب الطلاق،ج 3، ص 264، ط: دار الکتاب الإسلامی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88469کی تصدیق کریں
0     374
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات