میرے شوہر نے صرف میرے کہنے پر مجھے طلاق کے الفاظ ادا کئے ، جبکہ ان کا ارادہ نہیں تھا ، اور ان کو یہ بھی نہ پتا تھا کہ اس سے طلاق ہو جاتی ہے، تو کیا واقعاً ہماری طلاق ہوگئی ہوگی یا اللہ معاف کرےگا ؟ انجانے میں ہوئی غلطی سمجھ کر۔
سائلہ نے سوال میں اس با ت کی وضاحت نہیں کی ہے کہ سائلہ کے شوہر نے طلاق کے لئے کونسے الفاظ استعمال کئے اور کتنی طلاقیں دی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو صریح الفاظ جیسے " طلاق دیتا ہوں" و غیرہ کے ذریعہ ایک یا دو طلاق دی ہو تو اس سے اگرچہ اس کا ارادہ نہ ہو تب بھی سائلہ پر موافق عدد طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے،جس کے بعد دورانِ عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، چنانچہ شوہر اگر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کر لے ،مثلاً کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں و غیرہ یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرکے ، یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چُھو کر عملی طور پر رجوع کرلے تو اس سے بھی رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر نکاح بالکلیہ ختم ہو جائیگا، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، بہرصورت شوہر کو آئندہ کےلئے فقط ایک یا دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
البتہ سوال کی نوعیت اگر مختلف ہو، تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کر دیں تو ا ن شاء اللہ اس میں غور کر کے حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال ثلٰث جدھن جد و ھزلھن جد النکاح و الطلاق و الرجعۃ الخ ( کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 919، ط: البشری )۔
و فی رد المحتار: لأن الصریح لا یحتاج الی النیۃ الخ (باب الصریح، ج: 3، ص: 249، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین : صریح و کنایۃ، فالصریح: قولہ أنت طالق، و مطلقۃ،و طلقتکِ، فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی؛ لأن ھذہ الألفاظ تستعمل فی الطلاق، و لا یستعمل فی غیرہ، فکان صریحاً،و أنہ یعقب الرجعۃ بالنص. و لا یفتقر إلی النیۃ لأنہ صریح فیہ، لغلبۃ الاستعمال الخ (باب ایقاع الطلاق، ج: 2، ص: 61، ط: البشری)۔
و فیھا ایضاً: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل و لا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا و هو الإبقاء و إنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " و الرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة. قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ینظر إلى فرجها بشهوة " وهذا عندنا الخ (باب الرجعۃ، ج: 2، ص: 394، مکتبۃ شرکت علمیۃ)۔
و فی الھندیۃ: و إذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجع فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ ( الباب السادس فی الرجعۃ، ج: 1، ص: 470، ط: ماجدیۃ )۔