کیا فرماتےہیں علماء کرام مندرج ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ ث۔۔۔۔ کا نکاح مسمیٰ ۔۔۔۔۔ سے تقریباً دو مہینے قبل ہو گیا تھا، اس دوران گھریلوناچاقی ہی رہی، ابھی گزشتہ جمعرات کی شب طلاق کی بات ہوئی، جس کے متعلق دونوں میاں بیوی کا اختلاف ہے، بیوی مسماۃ۔۔۔۔۔ کا حلفیہ بیان: میں۔۔۔اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہونگی سچ کہونگی، اگر میں نے اس بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا، تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، جمعرات کی رات کو میرے شوہر نے مجھے کہا کہ میرے گھر والوں سے معافی مانگو، میں نےانکار کیا، تواس نے قرآن اٹھا کر اس پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ مجھے کہا ” تہ پہ ما طلاقہ ئے“ تم مجھ پر طلاق ہو،
شوہر مسمی۔۔۔۔۔ کا حلفیہ بیان: میں ۔۔۔۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہونگا سچ کہونگا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میری بیوی ۔۔۔۔ جو دعویٰ کر رہی ہے یہ بالکل جھوٹ ہے، نہ ہی میں نے قرآن اٹھا یا ہے اور نہ ہی میں نے طلاق کے الفاظ بولے ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟ اور آئندہ کیلئے کیا حکم ہے۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پاپند ہوتا ہے ، جبکہ سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والےپر عائد ہوتی ہے ، اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ اپنے خاوند پر اسے تین طلاقیں دینے کا دعوی کر رہی ہے ، اور اس کے پاس موقع کا کوئی گواہ بھی نہیں ، البتہ وہ اپنے کانوں سے تین بار طلاق کا لفظ سننا بیان کرتی ہے ، اور اس بیان پر حلف بھی اٹھا رہی ہے ، جبکہ اس کاشوہر اس کو طلاق دینے سے انکار کر رہا ہے ، اور وہ بھی اپنی بات کی سچائی پر قسم اٹھا رہا ہے ، ایسی صورتِ حال میں جب سائلہ طلاقِ ثلاثہ اپنے کانوں سے سننا بیان کر رہی ہے اور اسے بخوبی یاد بھی ہے ، تو ” المرأۃ کالقاضی “کے اصول کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہرگز اپنے اوپر قدرت نہ دے ، البتہ اگر یہ معاملہ قاضی ( جج) کی عدالت میں چلا جائے اور سائلہ اپنے دعوی پر گواہ نہ پیش کر سکے اور قاضی مدعی علیہ ( یعنی خاوند) کی قسم پر بیوی کے خلاف اور شوہر کے حق میں عدمِ طلاق کا فیصلہ دے کر اسے خاوند کے ساتھ بھیج دے تو اس صورت میں وہ اس شوہر کے ساتھ جانے سے اگر چہ گنہگار نہ ہو گی لیکن جب اسے تین طلاقیں اپنے کانوں سے سننا واقعۃً یاد ہوں تو اسے چاہیئےکہ حتی الامکان شوہر کو اپنےاوپر قدرت نہ دے بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرلے ۔
کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصریح، ج 3 ص 257 ط: ماجدیۃ )۔
وفی الھندیۃ : والمرأۃ کالقاضی لا یحل لھا أن تمکنہ إذا سمعت منہ ذالک أو شھد بہ شاھد عدل عندھا الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج1،ص354، ط: ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار: و المرأۃ کالقاضی إذا سمعتہ أو أخبرھا عدل لا یحل لہ تمکینہ و الفتوی علی أنہ لیس لھا قتلہ و لا تقتل نفسھا بل تفدی نفسھا بمال أو تھرب کما أنہ لیس لہ قتلھا إذا حرمت علیہ و کلما ھرب ردتہ بالسحر و فی البزازیۃ عن الأوزجندی أنھا ترفع الأمر للقاضی فإن حلف و لا بینۃ لھا فالإثم علیہ قلت أی إذا لم تقدر علی الفداء أو الھرب و لا علی منعہ فلا ینافی ما قبلہ الخ (کتاب الطلاق باب الصریح ج 3، ص 251 ، ط سعید )۔
وفی رد ایضاً تحت (قوله كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا وهذا لا يشكل إذا كان ثلاثا لبطلان المحلیۃ للإنشاء قبل زوج آخر وفيما دون الثلاث مشكل لأنه يقبل الإنشاء وأجيب بأنه إنما يثبت إذ قضى القاضي بالنكاح وهنا لم يقض به لاعترافهما به، وإنما ادعت الفرقة زيلعي، وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر الخ ( کتاب القضاء ج 5، ص407، ط: سعید )۔