السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب عالی! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام شرعی طور پر اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بیٹی کو طلاق ہو گئی ہے ،میری بیٹی کو اس کے شوہر نے طلائی زیورات (گولڈن )شادی کے موقع پر گفٹ دیےتھےجوکہ میری بیٹی کے حوالے کر دیےاور میری بیٹی اسے استعمال کرتی رہی ہے ،یہ گفٹ میری بیٹی کے پاس قبضے میں تھا، میری بیٹی میرے گھر پر آگئی اور اس کے پاس جو زیور تھا ،وہ شوہر کے گھر میں جہاں بیٹی رہ رہی تھی ،وہیں پر رہ گیا، ہمارے ذہن میں یہ تھا کہ کچھ دنوں بعد آپس میں ناراضگی ختم ہو جائے گی اور بچی اپنے شوہر کے پاس چلی جائے گی، لیکن اچانک میری بیٹی کو اس کے شوہر نے تین طلاق دے دیں ،ہماری رہنمائی کی جائے اور شرعی حکم سے آگاہ کیا جائے کہ جو زیور میری بیٹی کو اس کے شوہر نے گفٹ دیا تھا اور وہ میری بیٹی کے قبضے میں ہی تھا، اب وہ زیور میری بیٹی کے شوہر کے اس گھر میں ہیں جہاں بیٹی کا دیگر سامان بھی ہے ،زیور کی ملکیت میری بیٹی کی ہے یا نہیں ؟اس کی وضاحت شرعی طور پر کر دی جائے۔ شکریہ
واضح ہوکہ شادی بیاہ کے موقع پر حق مہر کے زیورات کے علاوہ جو زیورات دلہن کو پہنائے جاتے ہیں،بعض علاقوں کے عرفِ عام کے مطابق وہ محض استعمال کے لئے دیے جاتے ہیں،ان کامالک نہیں بنایا جاتا،اسی لئے بوقتِ علیحدگی زیورات واپس لیے جاتے ہیں،چنانچہ سائل کے ہاں بھی اگر یہی عرف ہو تو اس کا دامادان زیورات کواپنی بیوی سے واپس لے سکتا ہے،البتہ اگر مذکور زیورات سائل کے داماد نےاپنی بیوی یعنی سائل کی بیٹی کوصراحۃً مالک بنا کر دیے تھے، یا وہ زیورات شادی کے بعداس نے اپنی مرضی سے بیوی کو بنا کردیےتھے ،تووہ زیورات اس کی بیوی کی ملکیت بن چکے ہیں ،اس لئےعلیحدگی کی صورت میں سائل کی بیٹی کا ان زیورات کی واپسی کا مطالبہ درست ہے،اس کے سابقہ شوہر کا ان زیورات کو زبردستی اپنے قبضہ میں رکھنا جائز نہیں، جس سے احتراز چاہیئے۔
کمافی الشامیۃ: تحت (والمعتمد البناء علیٰ العرف کما علمت (کتاب النکاح، باب المھر،مطلب أنفق على معتدة الغير، ج 3، ص 157، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: (ومنها الزوجية) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار. وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة، وإن انقطع النكاح بينهما الخ(کتاب الھبۃ،الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ،ج4،ص386،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضا:وإذابعث الزوج إلى أهل زوجته أشياءعند زفافهامنهاديباج فلمازفت إليه أرادأن يستردمن المرأة الديباج ليس له ذلك إذابعث إليهاعلى جهة التمليك،كذا في الفصول العماديةالخ(کتاب النکاح،الباب السابع،الفصل السادس عشر،ج1،ص327،ط:ماجدیۃ)۔