میرے نکاح کو 12 سال ہوگئے ہیں، میرے شوہر مجھے بار بار دھمکی دیتے تھے کہ میں تمہیں طلاق دوں گا ، کہا کرتا تھا ، مگر اس نے ابھی 2 سال 2023 میں مجھے اپنے گھر والوں کے سامنے طلاق دیکر جاچکاہے کہ ” میں ہوش میں تمہیں طلاق دیتاہوں “ اس پر گواہ اس کے بھائی، والدہ میرے ساتھ ابھی بنوریہ مدرسہ میں موجود تھے ، گواہ کے ساتھ موجود ہے ، چھوٹا دیور اور میری ساس جنہوں نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور گواہی دینے کےلیے بھی حاضر ہیں، اب شرعاً ان الفاظ کا کیا حکم ہے ؟
نوٹ: سائلہ کے شوہر نے طلاق کا مذکور جملہ تین بار بولا تھا، جس کے گواہ لڑکے کے گھر والے ہیں، جن میں سے لڑکے کی والدہ اور اس کا بھائی بھی سائلہ کے بیان کی تصدیق کررہے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے مذکور جملہ ” میں ہوش میں تمہیں طلاق دیتاہوں “ کو تین بار دہرا کر اپنی بیوی کو کہہ دیا جس کی گواہی اور تصدیق موقع پر موجود افراد کررہے ہیں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے۔ جبکہ سائلہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ( البقرۃ : 230 )-
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:1 ، ص: 473، ناشر: ماجدیۃ )-