میں نے غصے میں اپنی بیوی سے کہا: "آج سے تم مجھ پر حرام ہو۔"
یہ بات میں نے غصے میں کہی تھی، میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ صرف ناراضگی میں یہ جملہ منہ سے نکل گیا۔اب میں پریشان ہوں کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟اور اگر طلاق نہیں ہوئی تو اس کا شرعی کفّارہ کیا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ لفظ حرام عرف میں طلاق کیلئے ہی استعال ہو تا ہےاور اس سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہو جا تی ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کومذکورالفاظ "آج سےتم مجھ پر حرام ہو "کہہ دیئےتو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی اور دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا، تاہم اگر میاں بیوی اب بھی ازدواجی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کیلئےباقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجا ب و قبول کر تے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا، تاہم اس کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا اس لیئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہو گی۔
وفی الشامیۃ :وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بهاالبائن لأنه لماغلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذالم يتوقف على النية أودلالة الحال اھ (3/299)۔
وفیہ ایضااذا نوی ھذا القید جار فی انت حرام علی اصل المذہب اما الفتوی فیقع بلانیۃ کما یاتی فی الایلاء (ج:3 ص؛273 ناشر سعید )
وفی البحر الرائق لو قال لہا انت علی حرام والحرام عندہ طلاق
وقع وان لم ینوی وذکر الامام ظہر الدین لا نقول لا تشترط
النیۃ ولاکن نجعلہ ناویا عرفا ( ج؛ 3 ص :300 ناشر ماجیدیہ)