میرے اور میرے شوہر کی ہر بار لڑائی ہوتی، چھوٹی چھوٹی بات پر وہ غصہ ہوکر طلاق دیتا جس کا کوئی گواہ نہ ہوتا۔
مگرتین طلاق میرے خاص ایام میں دی تھیں ، اور ۱س سےایک دن پہلے ہمبستری بھی ہوئی تھی اور شوہر غصے میں تھا اور کوئی گواہ نہیں ہے اس کا، تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں؟
واضح ہو کہ حا لت حیض میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جا تی ہے ، نیزطلاق کے واقع ہو نےکے لیے کسی اور کاالفا ظ طلاق کا سننا یا گواہوں کا موجود ہونا ضروری نہیں،لہذا صورت ِمسئولہ میں اگر سا ئلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ اس کے شوہر نے اس کو تین طلاق دی ہو( اگر چہ ماہواری کی حا لت میں دی ہو)،تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثا بت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گزقائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
وفی رد المختار ونص محمد رحمہ اللہ تعلی قال واذا طلق الر جل امراتہ ثلا ثا جمیعا فقد خلف السنۃ واثم وان دخل بہا او لم یدخل سواء بلغنا ذلک عن رسول للہ ﷺ عن علی وابن مسعود وابن عباس وغیرھم رضوان للہ علیھم (ج؛3 ص:285ناشر :سعید)
وفیہ ایضا عن الامامیۃ لا یقع بلفظ الثلاث ولا فی حا لت الحیض لانہ بدعۃ محرمۃ وعن ابن عباس یقع بہ واحدۃ وبہ قال ابن اسحاق وطاؤس وعکرمۃ لما فی مسلم ان ابن عباس قال کان الطلاق علی عہد رسول للہ ﷺ وابی بکر وسنتین من خلافۃ عمر ان الناس قد استعجلوا فی امر کان لھم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیھم فامضاہ علیھم وزہب جمہور الصحابۃ والتابعین ومن بعد ھم ائمۃ المسلمین الی انہ یقع الثلاث ( ج: 3 ص : 233 ناشر سعید )
وفی البدائع الصنا ئع واذا طلقہا فیہ فالطلاق فیہ بمنزلۃ الطلاق فی الطہر الذی بعدہ لان تلک الحیضۃ لا یعتد بہا (ج:3 ص :88 ناشر: سعید)
وفی الفتوی الھندیۃ وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صیحا (ج : 1 ص:473 ناشر: ماجیدیہ)
وفی البحر الرائق لو اقر با الطلاق وہو کاذب وقع فی القضاء (ج:3 ص :246 ناشرماجیدیہ)