میرے والد صاحب کا دو (2 )سال پہلے انتقال ہو گیا ہے ،وہ جائداد چھوڑگئے ہیں، ہم چار (4) بہن بھائی ہیں ، میں اور بھائی شادی شدہ ہے ،دو (2) بہن بھائی شادی کے قابل ہے، میں سب سے بڑی ہوں ، میرے بھائی وراثت میں مجھے میرا حق دینا چاہتے ہیں ، مگر ابھی ہم نے دو بہن بھائیوں کی شادی کرنی ہے ، میں نے فی الوقت انکو وراثت تقسیم کرنے سے منع کیا ہے، کیونکہ والد صاحب کچھ نقد نہیں چھوڑکے گئے ، اگر وراثت ابھی تقسیم کردیں گے، تو ہم یہ شادیاں کس سے کریں گے ، لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ: وراثت نہ بانٹنے سے والد صاحب کو (خدا نخواستہ )وہاں تکلیف ہوگی۔
صورتِ مسؤلہ میں اگر عام ورثہ اس بات پر راضی ہوں کہ: والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم بعد میں کریں گے، پہلے اس مشترک مال سے دو بہن بھائی کی شادی کرلیں ، تو ایسی صورت میں تمام عاقل و بالغ ورثہ کی رضا مندی وخوشی سے تقسیم کو مؤخر کرنے کی شرعی گنجائش ہے ، تاہم اگر ورثا ءمیں سے کوئی ایک وارث بھی اس تاخیر پر راضی نہ ہو، اور وہ فوری اپنا حصہ لینا چاہتا ہو، تو اس کی رضامندی کے بغیر اس کا حصہ روکنا شرعاًدرست نہ ہوگا ، بلکہ اس کے حصہ کی ادائیگی فوری لازم ہوگی ،جبکہ تمام ورثاء کی رضاو خوشی سے اگر تقسیم ترکہ میں تاخیر ہو، تو اس سے سائلہ کے والد مرحوم کو بھی مرنے کے بعد کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔