شادی کی دوسری رات کو میں نے بیوی کو دو طلاق دی، کیونکہ یہ مجھ سے بول رہی تھی کہ مجھے آزادی دو، اور پھر میں گھر سے باہر چلا گیا۔ پھر اس نے میرے بھائی اور اس کی زوجہ کو جا کر بتایا، تو میرا بھائی مجھے تلاش کرنے گھر سے باہر نکل آیا، تو میں اس کو پھیلی کے پل پر ملا۔اگلے دن میرے بھائی نے ہمارا نکاح رجوع کروانے کے لیے مسجد اقصیٰ کے امام صاحب سے بات کی، اور ہمارا نکاح رجوع مکرر ہوا۔ اس کے بعد ہم گھر میں رہنے لگے، مگر میری بیوی اس دوران بھی اچھی نہیں رہی۔اس دوران میری بیوی حاملہ ہوئی، اور جب بچے کی پیدائش کا وقت ہوا تو میں نے اس کو کہا کہ ہم پاروٹ ہسپتال جائیں گے، مگر اس نے میری بات نہیں مانی اور زنانہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہوئی۔ اس میں اس نے اپنی والدہ فرزانہ اور بہن دونوں کی بات مانی، اور میں پوری رات ہسپتال کے باہر موجود رہا، اور اندر میری والدہ اس کے ساتھ رہی، اور اس کے گھر والے نہیں آئے۔میں نے اس کو واٹس ایپ پر میسج کر کے کہا کہ ہم پاروٹ ہسپتال جائیں گے، تم آ جاؤ، مگر اس نے میری بات نہیں مانی، تو میں نے اس کو تین دفعہ “طلاق طلاق طلاق” لکھ کر میسج کر دیا۔ اس کے اگلے روز میری بیٹی پیدا ہوئی۔تو اس نے اپنے بھائی اور اپنے گھر والوں کو بتایا، تو اس کے بھائی نے دو دن بعد آ کر اپنی بہن سے بول کر چلا گیا کہ آپ لوگوں کی کوئی طلاق نہیں ہوئی، میں نے فتویٰ لے لیا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی بہن کو لے کر نہیں گیا، جبکہ ہمارے گھر سے ان کو بولا گیا، تو بھی اس کے بھائی نے کہا کہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔تو ہم نارمل رہنے لگے، اور اس دوران میری بیوی پھر حاملہ ہوئی، اور وہ خود بھی پریشان رہنے لگی کہ وہ ناجائز رہ رہے ہیں۔ تو میرے گھر والوں نے اس کی والدہ ، بہن اور بھائی کو بتایا، تو پھر بھی وہ اپنی بہن کو نہیں لے کر گئے۔اب ہمارے جھگڑے زیادہ ہونے لگے، کیونکہ میری بیوی بہت زیادہ بدتمیزی کرنے لگی۔ کافی عرصہ تک یہ چلتا رہا، آخر وہ ایک دن رات کو لڑ کر اپنے گھر چلی گئی، اور میں نے اپنے اور اس کے سب گھر والوں کو بتایا کہ میں اب اس کو نہیں لے کر آؤں گا، مگر اس کا بھائی بول رہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی۔تو آپ اس میں میری رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائل نے شادی کی دوسری رات اپنی بیوی کوواضح اور صریح الفاظ جیسے ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں وغیرہ “کے ساتھ دو طلاق دے کر اس کے بعد رجوع کر لیا ہو،تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح بدستور قائم تھا اور اس کے بعد شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ اس کے بعدپہلی بچی کی ولادت سے قبل جب سائل نے غصہ میں آکر بیوی کو تحریری طور پر تین دفعہ لفظ طلاق کے ذریعہ مزید تین طلاقیں دیدیں تو اس سے سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی تھی اور بقیہ دو طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی تھیں جس کے بعدان دونوں کا ساتھ رہنا نا جائز و حرام تھا، تاہم سائل کے بہنوئی کی جانب سے غلط مسئلہ بتا نے پر میاں بیوی اگر ساتھ رہتے رہے ہوں تو حرمت کا علم نہ ہو نے کی وجہ سے اس دوران ہو نے والے بچہ کا نسب سائل ہی سے ثابت ہو گا ،اور ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ پہلے سرزد ہو چکا ہے اس پر بصدق دل توبہ واستغفار کرنا بھی لازم ہے ، جبکہ اب رجو ع نہیں ہو سکتا اور حلا لہ شرعیہ کے بغیر ان دونوں کا با ہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور عورت ایام عدت گذرنےکے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی التنزیل العزیز: الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان الآیۃ( سورۃ البقرۃ آیۃ 229 )
وفی الھندیۃ:إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاصحیحا(ج: 1 ص : 473 فصل فيما تحل به المطلقة ناشر ماجیدیہ)
وفیہاایضا : ولو طلقہا ثلاثا ثم تزوجہا قبل ان تنکح زوجا غیرہ فجاءت منہ بولد ولایعلمان بفساد النکاح فا لنسب ثابت وان کان یعلمان بفساد النکاح یثبت النسب ایضا عند ابی حنیفۃ تعا لی کذا فی التاترخانیۃ ناقلا عن التجنیس ( ج:1 ص :540 باب في ثبوت النسب ناشر ماجدیہ)
وفی تبیین الحقائق: والحامل وضعہ ای عدۃ الحامل وضع الحمل سواء کانت حرۃ او امۃ وسواء کانت العدۃ عن الطلاق او وفاۃ او غیرہ لاطلاق قولہ تعالی ( واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ) الطلاق :4 ( ج:3 ص :28 ناشر المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفي رد المحتار: إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة(ج :٣ ص :246 باب الطلاق ناشر سعيد)