میرا نام ۔۔ہے میرے شوہر کا نام ۔۔۔ہے، گیارہ سال کے درمیان ایک بار تین طلاق دی، پھر ایک سال کے بعد زبردستی جھوٹ بول کر اپنے بڑے بھائی سے ایک رات کے لیے حلالہ کرایا، پھر اپنے پاس رکھ کر پُوری کاروائی پر خود نکاح کیا، میں بہتری چاہتی ہوں، وہ جیسا تھا پھر ویسے ہی ہے، میں نے یہ سب کچھ بچوں کی وجہ سے کیا تھا ، میں اب مزید نہیں رہنا چاہتی ، دو دفعہ پھر طلاق دی، مگر مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔
اگر سائله كے شوہر نے اسے تين طلاقيں ديدي ہوں ، اور ان طلاقوں كى باقاعده عدت گذرنے كے بعد شوہر نے سائله كا نكاح بھائى سے كرا ديا ہو، جس كى بنياد پر ان دونوں كے درميان ہم بسترى كا تعلق بھى قائم ہو چكا ہو، اور اسے اس بھائى نے بھى طلاق ديدى ہو، جس كى عدت گذرنے كے بعد سابقه شوہر نے شرعى شرائط كو ملحوظ ركھ كر سائله سے دوباره باقاعده نكاح كر ليا ہو، تو شرعا يه نكاح درست منعقد ہو چكا ہے ، چنانچه اب اس تجديد نكاح كے بعد بھى اگر سائله كے شوہر نے واضح اور صريح الفاظ جيسے "ميں طلاق ديتا ہوں" وغيره كے ذريعه دوباره سائله كو دو طلاقيں ديدى ہوں ، تو اس سے سائله پر دو طلاق رجعى واقع ہو چكى ہے، جس كے بعد سائله كے شوہر كو دوران عدت رجوع كا اختيار حاصل ہے، لهذا اگر وه دوران عدت رجوع نہ کرے، تو عدت ختم ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا، اسکے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر دو صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط ايك طلاق کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
كما في الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال. (كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 3، ص: 414-415، ط: ايج ايم سعيد)
وفي المبسوط للسرخسي: وبيان هذا أن بالتطليقات الثلاث تصير محرمة ومطلقة ثم بإصابة الزوج الثاني يرتفع الوصفان جميعا وتلتحق بالأجنبية التي لم يتزوجها قط، فبالتطليقة الواحدة تصير موصوفة بأنها مطلقة، فيرتفع ذلك بإصابة الزوج الثاني. (باب من الطلاق، ج: 6، ص: 95)
وفيه أيضا: فإذا تزوجها بهذا الشرط بأن قالت المرأة له: تزوجني فحللني أو قال له الزوج الأول: تزوج هذه المرأة فحللها لي أو قال الثاني للمرأة: أتزوجك فأحللك للأول فهذا مكروه، وهو معنى قوله عليه السلام «لعن الله المحلل والمحلل له» (باب الصلح، ج: 30، ص: 228)
وفي رد المحتار: والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة (باب الرجعة، ج: 3، ص: 400)
وفي الهندية: وتنقطع الرجعة إن حكم بخروجها من الحيضة الثالثة إن كانت حرة (الباب السادس في الرجعة، ج: 1، ص: 471)
وفي البدائع: وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة، فلا تتصور الاستدامة (فصل في شرائط جواز الرجعة، ج: 3، ص: 183)