السلام علیکم۔ کیا اس طرح سونے کی خریداری جائز ہے؟ کہ
مثلا ایک لاکھ روپے کی مالیت کا سونا ایک لاکھ بیس 20 ہزار روپے پر خریدتے ہیں ، جسے 12 یا 14 مہینوں میں ادا کردیتے ہیں
واضح ہو کہ سونا ادھا ر پر خرید نے یا فروخت کر نے کے لیئے بھی وہی شرائط ہیں جو دیگر اشیاء کے لیے ہیں مثلا
1 : مجلس عقد ہی میں مکمل سونے پر قبضہ کر لیا جائے ۔
2 : ادھار کی مدت متعین کر لی جائے ۔
3:ثمن (رقم) کی ادائے گی میں تاخیر ہو جانے کی صورت میں اضافی رقم کی شرط نہ لگائی جائے۔
جبکہ سونے کی ادھار خریدو فروخت کی صورت میں یہ بھی شرط ہے ک اسے مار کیٹ ریٹ پر فروت کیا جائے کیونکہ بازاری نرخ سے زیادہ پر ادھار فروخت کرنے کی صورت میں چونکہ سود کا حیلہ ہے اسلیے کا مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر سونا ادھار فروخت کر نا شرعا درست نہیں جس سے احتراز لا زم ہے۔
کما قال للہ تعالی یاایہا الذین آمنو الاتا کلوا الربا اضعافا مضاعفۃ واقوا للہ لعلکم تفلحون الآیہ ( سورۃ آل عمران :130 )
وفی در المختار وفی الاشباہ کل قرض جر نفعا حرا م اھ ( ج:5 ص:165 ناشر سعید)
وفی الشامیۃ سئل الحلوانی عن بیع الذہب با لفلوس نسیئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احد البدلین اھ (ج:5 ص :180 ناشر سعید)
وکما فی فقہ البیوع اذا بیعت فیکفی احدالبدلین فی المجلس لانہ بیع بخلاف الجنس وبہ صرح الکاسانی ؒ فی بیع الدرھم والدنانیر با الفلوس فقال ولو لم یو جد القبض الا من احد الجانبین دون الآخر فافترقا ومضی العقد علی الصحۃ لان المقبوض صار عینا بالقبض فکان افترقا عن عین بدین (ج:1 ص : 83 )
وکما فی بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ ولكن جواز النسيئة في تبادل العملات المختلفة يمكن أن يتخذ حيلة لأكل الربا فمثلا إذا أراد المقرض أن يطالب بعشر ربيات على المائة المقرضة فإنه يبيع مئة ربية نسيئة بمقدار من الدولارات التي تساوي مئة وعشر ربيات وسدا لهذا الباب فإنه ينبغي أن يقيد جواز النسيئة في بيع العملات أن يقع ذلك على سعر سوق السائد عند العقد (ج:1 ص : 171)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1