السلام علیکم، جناب!میرا نام...ہےاور ہم پانچ بہن بھائی ہیں، جن میں دو بھائی اور تین بہنیں ہیں،والد صاحب حیات نہیں ہیں، البتہ والدہ محترمہ حیات ہیں۔اب عرض یہ کرنی ہے کہ ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی دو گھر خریدے تھے، ان میں سے ایک گھر میرے نام کر دیا تھا اور دوسرا گھر میرے بھائی کے نام کر دیا تھا اور انہوں نے سب گھر والوں کی موجودگی میں یہ فرمایا تھا کہ "یہ دونوں گھر اب ان دونوں بیٹوں کے ہیں"۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا والدہ محترمہ اور بہنوں کا ان گھروں میں کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟کیونکہ ہم دونوں بھائی یہ نہیں چاہتے کہ کسی کا حق تلف ہو،اس لئے ایک مستند شرعی جواب درکار ہے،بہت بہت شکریہ۔
واضح ہو کہ سائل کےوالد مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں جن اولادکو اپنی جائیداد میں سے جو کچھ دے کر اس پر اسے باضابطہ مالک وقابض بھی بنا دیا تھا تو وہ شرعاً بھی ان کی ملک ہو چکی ہے،اس جائیداد کو ترکہ میں شامل کر کے مرحوم کے ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جائے گا ، البتہ جو جائیداد کسی بیٹے یا بیٹی کو باضابطہ مالک وقابض بنا کر نہیں دی، بلکہ محض زبانی کلامی یا صرف کاغذوں میں نام کر دی گئی ہو بایں معنی کہ بیٹوں کو اپنی زندگی میں ان جائیداد کوفروخت کرنے یا ان سے حاصل ہونے والے منافع مثلاً کرایہ وغیرہ سے مستفید ہونے کا حق نہ سونپا ہو تو اس صورت میں مذکور جائیداد شرعاً ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے بدستور مرحوم کی ملک میں شامل ہو کر اب ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام ورثاء میں ان کے حصصِ شرعیہ کے بقدرتقسیم ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والدمرحوم نے مذکورہ دونوں گھر سائل اور اس کے بھائی کو باضابطہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ نہ دیے ہوں ، بلکہ فقط کاغذات میں ان کے نام رجسٹری کر دی ہو تو یہ دونوں گھر حسبِ سابق ان کی ملکیت میں رہ کر تمام ورثاء میں بقدرِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لامشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5،ص: 690، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: وفیھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للمو ھوب لہ قبل القبض الخ (کتاب الھبۃ،ج: 4 ص: 374، ط: ماجدیۃ)۔