کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرا بیٹا نشہ کا عادی ہے ، اس کا اپنی بیوی سے لڑائی جھگڑا چل رہاتھا،دونوں کے آپس میں تعلقات صحیح نہیں تھے،ہم اس کو ہسپتال میں علاج کےلئے لے جارہے تھے،تو اس نے پہلے مجھے فون کیا جس میں اس نے گالیاں دی تومیں نے فورا ًفون بند کرلیا ،توا س نے دوبارہ اپنی والدہ کو فون کیا اس دوران اس نے اپنی والدہ کو تین بار ”طلاق، طلاق،طلاق“کے الفاظ کہے،
بیوی ناراض ہو کر میکے گئی ہوئی ہے،موقع پر موجود نہیں تھی،بیٹے نےوالدہ کو فون کیا بغیر کسی سیاق وسباق کے صرف یہ الفاظ بولے”اماں! طلاق، طلاق،طلاق“اورمیری بیوی یعنی لڑکے کی والدہ نے ڈر کر فون کاٹ دیا۔
نوٹ:شوہر سے وضاحت لینے پر معلوم ہو ا کہ شوہر نے والدہ کوفون پر کہاکہ اگر مجھے ہسپتال سے نہیں نکلوایا تو میں بیوی کو طلاق دیدونگا ،جس پر والدہ نے فون کاٹ دیا،بیٹا ماں کی بات کا انکار کررہاہے۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پاپند ہوتاہے ، سوال کے سچ اور جھوٹ کی ساری ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے ،اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی اور اس کے بیٹے کے بیان میں تضاد ہے ، سائل کی بیوی بیٹے کے خلاف تین بار بغیر نسبت طلاق کے الفاظ بولنے کی مدعیہ ہے، اور بیٹا ہسپتال سے نہ نکلوانے پر طلاق دینے کی دھمکی دینے کا اقرار کر رہاہے، اس صورت حال میں چونکہ سائل کی بیوی کے پاس اپنے مذکور دعوی پر کوئی گواہ موجود نہیں ہیں تو سائل کے بیٹے کا حلفیہ بیان معتبر ہوگا ،لہذا اگر وہ حلفیہ بیان دے کہ اس نے اپنی والدہ کو فون پر صرف یہی جملہ ”اگر مجھے ہسپتال سے نہیں نکلوایا تو میں بیوی کو طلاق دے دونگا“ کہا ہو تواس کا مذکورہ جملہ کہنا محض طلاق کی دھمکی ہے، انشاءِ طلاق نہیں ،اس لئےاس سےاس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے،وہ دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں، تاہم طلاق کے معاملے میں آئندہ خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی سنن الترمذی: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه الخ(ابواب الاحکام،باب ما جاء في أن البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه، ج3، ح1341، ص618،ط:مکتبۃ مصطفی البابی مصر)۔
وفی العقود الدریۃ: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ(کتاب الطلاق،ج1،ص38،ط:دار المعرفۃ)۔
وفی الھندیۃ: بخلاف قوله :”طلاق كنم“ لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك . وفي المحيط ”لو قال بالعربية :أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا(الی قولہ)سئل نجم الدين عن رجل قال لامرأته :اذهبي إلى بيت أمك .فقالت: ”طلاق ده تابروم“ فقال :”تو برو من طلاق دمادم فرستم “،قال :لا تطلق ؛لأنه وعد كذافي الخلاصة .الخ(کتاب الطلاق،الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ، ج1،ص384،ط: ماجدیۃ)۔