السلام علیکم ! بخدمت جناب !عرض خدمت یہ ہے کہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میری شادی عرصہ پانچ (5)سال قبل مریم سے انجام پائی ،لیکن زیادہ عرصہ جھگڑؤں میں اورناچاقی میں گزارا،آخر کار اسی سال اٹھائیس (28) فروری کی رات جھگڑے کے دوران میں نے تین بار یہ الفاظ کہہ دئیے ”جاتجھے طلاق دی“لیکن وہ (عروسہ) کہتی ہے کہ میں نے سنا نہیں، اب آپ راہنمائی فرمائیں کہ ہمارے درمیان طلاق ہوگئی کہ نہیں؟ اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کےلئے بیوی کا الفاظِ طلاق سنناشرعاً ضروری نہیں ،بلکہ اس کے بغیر بھی دی جانے والی طلاق شرعاً واقع ہوجاتی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے جھگڑے کے دوران اپنی بیوی ( مریم ) کو مذکور الفاظ "جا تجھے طلاق دی" تین مرتبہ کہہ دیے ، اگرچہ سائل کی بیوی ( مریم) نے مذکور الفاظ نہ سنے ہوں، تب بھی سائل کی بیوی ( مریم ) پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ سائل کی بیوی ( مریم )ایام ِعدت گزارنے کےبعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
قال اللہ تعالیٰ: فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (سورۃ البقرۃ ایت نمبر 230)۔
وفی صحیح مسلم: عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت طلق رجل امراتہ ثلاثا فتزوجھا رجل ثم طلقھا قبل أن یدخل بھا فأراد زوجھا الاول أن یتزوجھا،فسئل رسول اللہ ﷺ عن ذلک فقال لا حتی یذوق الآخر من عسیلتھا ما ذاق الأول الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 736، ط: البشریٰ)۔
وفی المبسوط للسرخسی: والذي بيده عقدة النكاح عندنا هو الزوج وهو قول ابن عباس وشريح(إلی قولہ)وظاهر الآية يدل على ذلك لأن الذي بيده عقدة النكاح من يتصرف بعقد النكاح الخ (كتاب الطلاق، ج:6،ص:63 ط: دار المعرفۃ۔بیروت)۔
وفی الشامیۃ: (قوله ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية(إلی قولہ) وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته، فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظًا لا صريحًا ولا كنايةً لايقع عليه الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230 ط: ایچ ایم سعيد)۔
وفی الھندیۃ: وإن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحییحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (الباب السادس فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 1، ص: 472، ط: ماجدیہ)۔
وفی الھندیۃ: إذا قال لإمرأتہ أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج: 1، ص: 355، ط: ماجدیہ)۔