میری زوجہ نے میرے کہنے پر عدالت سے خلع کامطالبہ کیا ، تاکہ خلع کی ڈگری ملنے کے بعد میں بیرون ملک دوسری زوجہ کو بلانے پر سفر کر سکوں ،اور خود کو پاکستان میں غیر شادی شدہ ظاہر کر سکوں ،میں نے عدالت میں نہ پیشی دی ہے ،نہ دستخط کیے ہیں، اور نہ زبانی طلاق دی ہے ،عدالت یکطرفہ فیصلہ د یدے گی ، جیسا کہ آج کل عدالتوں کا طریقہ کار ہے ،کیا اس فیصلے کے بعد میں اور میری زوجہ ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس سے طلاق ہو جائے گی یا نکاح اب بھی باقی رہے گا ؟میرا یہ اقدام محض مجبوری کی بناء پر ہے ،میں نے سنا ہے کہ شوہر اگر عدالت کے نوٹس کی تعمیل نہ کرے تو کورٹ کا دیا ہوا فیصلہ نافذ نہیں ہو تا،یہ بھی وضاحت کروں کہ میری پاکستانی زوجہ درحقیقت طلاق نہیں چاہتی ، اور میں بھی دراصل اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا ، اگر بالفرض طلاق ہو جائے تو ساتھ رہنے کا شرعی طریقہ کیا ہو گا ؟ جو بھی حکمِ شرعی ہو اس سے آگاہ کریں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کے درست ہونے کے لئے میاں بیوی کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، لہذا صورت ِمسئولہ میں اگر سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر سائل کی بیوی عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرے ،اسپر سائل یا اس کے وکیل کےدستخط نہ ہوں ،تو ایسی صورت میں عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعا ً سائل اور اس کی بیوی کے درمیان ان کا نکاح ختم نہ ہوگا بلکہ بدستور قائم رہےگا۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا أنھما لا یجوز خلعھا إلا برضی الزوجین فقال أصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا إلا برضی الزوجین لأن الحاکم لا یملک فکیف یملکہ الحکمان و إنما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ والآخر وکیل الزوج فی الخلع ( الی قولہ) فکیف یجوز للحکمین أن یخلعا بغیر رضاہ و یخرجا المال عن ملکھا الخ ( باب الحکمین کیف یعملان ج:2،ص:191،ط: سہیل اکیڈمی لاھور)۔
و فی الدر المختار: (و) شرطہ کالطلاق الخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ و شرطہ کالطلاق) (الی قولہ) و أما رکنہ فھو کما فی البدائع إذا کان بعوض الإیجاب و القبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ و لا یستحق العوض بدون القبول بخلاف ما إذا قال خالعتک و لم یذکر العوض و نوی الطلاق فإنہ یقع و إن لم تقبل لإنہ طلاق بلا عوض فلا یفتقر الی القبول الخ (باب الخلع ج: 3، ص:441، ط: سعید)۔
و فی التاتاترخانیۃ: الخلع عقد یفتقر إلی الإیجاب و القبول یثبت الفرقۃ و یستحق العوض الخ (ج: 3،ص: 53)۔
و فی الفقہ الإسلامی: أرکان الخلع (الی قولہ ) ألأول أن یصدر الإیجاب من الزوج أو و کیلہ أو ولیہ إن کان صغیراً أو سفیھاً غیر رشید الخ (الفصل الثامن ج:1، ص: 463، ط: رشیدیۃ)۔