السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک خاتون کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکل کر اپنے پسند کے شخص کے ساتھ چلی گئی، اس دوران ان کے والدین کو اطلاع ملی تو والد صاحب نے فون پر رابطہ کر کے کہا کہ تم واپس آجاؤ، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے اور تمہاری مرضی کے مطابق تمہاری شادی اسی شخص سے کروا دیں گے، یعنی ایک طرح سے انہوں نے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ اسی یقین دہانی کے بعد، خاتون نے اسی شخص سے گاڑی میں نکاح کر لیا۔ نکاح ایک نکاح خواہ نے پڑھایا اور دو گواہ بھی موجود تھے، اس کے بعد وہ شخص خاتون کو واپس ان کے گھر چھوڑ گیا اور کہا کہ وہ بعد میں باقاعدہ رخصتی کے لیے آئیں گے، بعد میں والد صاحب نے کہا کہ یہ بات (یعنی رضامندی اور شادی کرانے کا وعدہ) انہوں نے صرف بیٹی کو واپس بلانے کے لیے کی تھی، حقیقت میں وہ اس نکاح پر راضی نہیں تھے، اس کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات ہوئے، ایک موقع پر شوہر نے غصے میں دو طلاقیں دے دیں، بعد میں دونوں میں صلح ہو گئی اور خاندانوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح اور رخصتی ہوئی، اب دونوں کے درمیان دوبارہ اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور عدالت میں خلع کا کیس زیرِ سماعت ہے، جس کا فیصلہ بہت جلد سنایا جانے والا ہے۔ سوالات درج ذیل ہیں:
1. کیا پہلا نکاح (جو والد کی زبانی رضامندی کے بعد ہوا) شرعاً درست اور معتبر تھا؟ 2. اگر وہ نکاح معتبر تھا تو شوہر کی دی ہوئی دو طلاقیں شرعاً واقع ہوئیں یا نہیں؟ 3. بعد میں ہونے والا دوسرا نکاح نیا نکاح شمار ہوگا یا پہلے نکاح کی تجدید کے طور پر؟ 4. اگر عدالت سے خلع ہو جائے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ 5. کیا ان تمام واقعات کے بعد تین طلاقیں مکمل شمار ہوں گی یا نہیں؟ براہِ کرم مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور شخص خاندانی پسِ منظر اور مالی اعتبار سے اس عورت کا کفؤ ہم پلہ اور برابر ہے یا نہیں تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ۔
(3-2-1) تاہم اگر یہ شخص اس عورت کا کفؤ ہو تو دونوں کا خاندان کے بڑوں کی اجازت و رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا اگرچہ انتہائی درجہ نا مناسب اور معیوب تھا ، لیکن کفؤ ہونے کی وجہ سے دونوں کا نکاح منعقد ہو چکا تھا اور اس کے بعد واضح الفاظ میں دی جانے والی دو طلاق رجعی بھی واقع ہو چکی تھی ، لیکن دوران عدّت صلح کرتے ہوئے قولاً یا فعلاً رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہو کر نکاح بحال ہو چکا تھا اور ساتھ رہنے کے لئے تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں تھی، جبکہ بعد میں دونوں خاندانوں کے بڑوں کے درمیان ہونے والا نکاح تجدید نکاح کہلائےگا اور اس کے بعد بھی اس شخص کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔
(5-4) جبکہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر یا اسکی طرف سے مقرر کردہ وکیل عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے کاغذات پر دستخط نہ کرے بلکہ عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع کا فیصلہ دیدے اور اس میں فسخ نکاح کے بنیادی اسباب میں کوئی سبب بھی موجود نہ ہو، تو اس فیصلہ کا شرعاً کوئی اعتبار نہ ہوگا اوراسکی وجہ سے میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوگا، بلکہ بدستور برقرار ہوگا ، البتہ اگر شوہر یا اس کے وکیل کی جانب سے اس خلع پر زبانی یا تحریری طور پر رضامندی کا اظہار کیا جائے تو یہ خلع شرعاً درست ہو کر اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں کی وقوع کی وجہ سے حرمت ِمغلظہ ثابت ہو جائے گی ،جس کے بعد ر جوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما في إعلاء السنن : قال أبو حنيفة رح : في نكاح اللعب والهزل أنه جائز كما يجوز نكاح الجد (باب لعب النكاح وجده سواء،ج: 11، ص: 133، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ)۔
و فی الھندیۃ: و أما رکنہ فالإیجاب و القبول کذا فی الکافی الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 267، ط: ماجدیۃ)۔
و فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنہما لا یجوز خلعھما إلا برضی الزوجین فقال أصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا إلا برضی الزوجین لأن الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان وإنما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ والأخر وکیل الزوج فی الخلع (الی قولہ) وکیف یجوز للحکمین أن یخلعا بغیر رضاہ ویخرجا المال عن ملکھا الخ (ج:2، ص: 191، ط: سہیل اکیڈیمی )۔
وفی البدائع: أما الأول فقد اختلف في ماهية الخلع قال أصحابنا: هو طلاق وهو مروي عن عمر وعثمان رضي الله عنهما وللشافعي قولان: في قول مثل قولنا، وفي قول ليس بطلاق، بل هو فسخ وهو مروي عن ابن عباس رضي الله عنهما، وفائدة الاختلاف أنه إذا خالع امرأته ثم تزوجها تعود إليه بطلاقين عندنا وعنده بثلاث تطليقات حتى لو طلقها بعد ذلك تطليقتين حرمت عليه حرمة غليظة عندنا الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 144، ط: سعید)۔