السلام علیکم
میرا مسئلہ یہ ہےکہ میری چھوٹی بہن کی شادی آج سے سات سال پہلے ہمارے ساتھ دوسرا گاؤں” بکوٹ“ ہے اس میں ہوئی تھی، آج ایک ماہ پہلے میر ے خالہ کے گھر شادی تھی، میری بہن اس شادی میں راضی خوشی کہ ساتھ آئی، دو دن ادھر ہی رہی پھر اس کے شوہر نے فون کیا کہ گھر جاؤ ،اس نے کہا ،میں شام کو جاؤ نگی، ان میں جو لڑائی ہوئی فون پر ہی اس نے کہا کہ ابھی اگر نہیں گئی ،تو میں تم کو طلاق دوں گا، اس نے اسی وقت گاڑی کی اور چلی گئی اور ساتھ ہی موبائل چارج نہ ہونے کی وجہ سے فون بند ہوگیا،جب وہ گھر پہنچی توموبائل آن کیا ،تو اس کے شوہر نے تین چار میسج کئے تھے،جس میں اس نے بولا تھا کہ "میں تم کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ،پھر کہا "شرط رکھ کر طلاق دیتا ہو ں "پھر اس نے دوسری بہن کو فون کر کے بولا کہ اس کو لے جاؤ،میرے اب اس سے کوئی رشتہ نہیں ہے، پھر جب مجھے پتہ چلا ،تب میں نے اپنی بیوی اور بھائی کی بیوی کو اس کے گھر پہنچا دیا ، تب تک اس کےتین چاچا بھی اس کے گھر میں موجود تھے ،وہ بھی آ گئے، میں نے ایک چاچا کو فون پر بھی کہا ،تب انہوں نے اس کو پھر کہا،یہ کیا میسج بول رہے ہو ،اس نے آگے یہ کہا کہ میں نے کہہ دیا ہے ، جو کہنا تھا ، پھر بھی میں نے ان سے کہا کہ آپ بھی جو قاری صاحب عالم صاحب سے پوچھ لو، میں بھی پوچھوں گا ، جس سے بھی پوچھوں، اس نے یہی کہا کہ کوئی حل نہیں ہے ،یہ طلاق ہوئی ہے۔
نوٹ:شوہر کے طلاق والے میسج واٹس ایپ پر موصول ہوئے،جن کو سن لیا گیا،اس میں شوہر نے پنجابی زبان میں میں صریح الفاظ میں طلاق کے الفاظ کہے’’طلاق یہ،طلاق یہ،طلاق یہ ،دری شرطوں ماری طلاق یہ،خلاص‘‘ جس کا اردو ترجمہ ہے(طلاق ہے، طلاق ہے ،طلاق ہے،تین شرطوں کے ساتھ میری طرف سے طلاق ،خلاص)میں طلاق دی ہے۔
واضح ہوکہ قرآن وسنت کی روشنی میں باجماعِ صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم اجمعین وباتفاقِ ائمہ اربعہ( امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک ،اور امام احمد بن حنبل ) رحمہم اللہ تین طلاقیں چاہے ایک مجلس میں اور ایک ہی جملہ کے ساتھ دی جائیں یا مختلف مجالس میں اور الگ الگ جملوں کے ساتھ دی جائیں، تو اس سے تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوجاتی ہے، قرآن کریم کی نصوصِ قطعیہ ، احادیثِ صحیحہ اور آثارِ صحابہ وتابعین اور فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریحات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا اگر چہ ناپسندیدہ ہو،مگر اس طرح یکمشت تین طلاقیں دینے سےتین ہی طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہنوئی نے جب اپنی بیوی کو فون پر مذکور الفاظ’’طلاق یہ،طلاق یہ،طلاق یہ ،دری شرطوں ماری طلاق یہ،خلاص‘‘ (طلاق ہے،طلاق ہے،طلاق ہے )تین دفعہ کہہ دیے ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
قال اللہ تعالی: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)۔
و فی الصحیح للبخاری : قو قال اللیث عن نافع کان ابن عمر اذا سئل عمن طلق ثلاثا قال : لو طلقت مرۃ او مرتین فان النبی ﷺ امرنی بھذا فان طلقھا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ ( کتاب الطلاق، ج 2، ص 292)۔
وفیہ ایضاً: عن عائشة رضى الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقنى فأبت، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير فإنما معه مثل هدبة الثوب، فقال أتريدين أن ترجعی إلى رفاعة ؟ لا، حتى تذوقى عسيلته و يذوق عسيلتك (باب شهادۃ المختبی ج 2 ص 1243، ط: البشرى)۔
وفی الدر المختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر الخ(باب الصريح،ج 3،ص 248،ط:سعید)۔
و فی البحر الرائق: وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير(الیقولہ) وفيها قالت له طلقني فقال أطلقك وقع عند مشايخ سمرقند الخ( باب الطلاق الصريح،ج 3،ص 271،ط: دار المعرفة)۔
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج 1، ص 473، ط:ماجدیۃ)۔