ملک مسمیٰ محمد فاروق ولد محمد یوسف قوم کمہارساکن جہان آباد تحصیل شاہ پور ضلع سرگودھا شناختی کارڈ نمبر 38404-0413474-5
جو کہ من مقر کی شادی ہمراہ مسماۃ شاہدہ پروین دختر محمد حیات قوم کمہار کھوکھر ساکن مکان نمبر 102 محلہ نون کالونی تحصیل سلانوالی ضلع سرگودھا سے سال 2014 میں بمطابق شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم سرانجام ہوئی ۔ مابین فریقین رنجش و ناراضگی پیدا ہونے کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہوگئے اور کوشش بسیار کے باوجود مفاہمت نہ ہوسکی۔ معززین دیہہ برادری کی کاوشوں کو بھی بروئے کار لایا گیا، مگر مفاہمت نہ ہوسکی ہے۔ مسماۃ مذکورہ از خود طلاق کا مطالبہ کررہی ہے اور آباد نہ ہونا چاہتی ہے۔ مسماۃ مذکورہ کے بطن سے ایک بیٹی عمر تقریباً 11 سال اور ایک بیٹا عمر تقریباً پانچ سال ہے، پیدا ہوئے ہیں۔ جوکہ بقید حیات ہیں۔ من مقر مسماۃ مذکورہ کے مطالبہ پر امروز بقائمی ہوش و حواس خمسہ بلا جبرو اکراہ غیرے رو برو گواہان حاشیہ مسماۃ شاہدہ پروین دختر محمد حیات قوم کمہار کھوکھر ساکن مکان نمبر 102محلہ نون کالونی سلانوالی ضلع سرگودھا کو طلاق اول زبانی و تحریری دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں ، آج کے بعد میرا کوئی تعلق واسطہ ہمراہ مسماۃ مذکورہ باقی نہ رہ گیا ہے اور نہ ہی آئندہ رہے گا۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو طلاق نامہ میں مذکور ” من مقر مسماۃ شاہدہ پروین کو طلاق اول زبانی و تحریری دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں“ الفاظ کہہ دیے ، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے۔ چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔ البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں، تو نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم تجدیدِ نکاح کی صورت میں آئندہ کےلئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔ لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما في خلاصة الفتاوى: وفي الفتاوى لو قال لامرأته أنت طالق ثم قال للناس زن بر من حرام است وعنى به الأول أو لا نية له فقد جعل الرجعي بائنا وإن عنى به الابتداء فھی طالق آخر بائن إلخ۔(كتاب الطلاق، ج 2، ص 86، ط:رشيدية)-
وفی الدر المختار: فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا و لا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام (إلی قولہ) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع و إلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنھا أقوى لكونھا ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتھا على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بھا عمادية إلخ۔
وفی الشامیۃ:تحت (قوله يحتمل ردا) أي ويصلح جوابا أيضا و لا يصلح سبا و لا شتماً ح (قوله خلية) بفتح الخاء المعجمة فعيلة بمعنى فاعلة: أي خالية إما عن النكاح أو عن الخير ح: أي فھو عن الأول جواب، وعلى الثاني سب وشتم، ومثله ما يأتي (قوله برية) بالھمزة وتركه، أي منفصلة إما عن قيد النكاح أو حسن الخلق إلخ۔ (كتاب الطلاق، باب الکنایات،ج 3، ص 296۔301، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: في بدائع الصنائع : وأما حكم الطلاق البائن فالطلاق البائن نوعان : أحدهما الطلقات، والثاني الطلقة الواحدة البائنة، (إلى قوله) و زوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظھاره ، و إيلاؤه ولا يجري اللعان بينھما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحھا من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة۔وإن كان بائنا۔فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية إلخ۔ (فصل في حكم الطلاق البائن، ج 3، ص 187، ط : دار الكتب العلمية)-