السلام علیکم
میرا اور میری بیوی کا گھریلو معاملات میں اختلاف ہو گیا ،اور جھگڑا طول پکڑ گیا، اور دورانِ جھگڑا میں نے غصے سے اپنی بیوی کو بول دیا کہ میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں، ایک طلاق دیتا ہوں، ایک طلاق دیتا ہوں، واللہ بخدا میرے یہی الفاظ تھے ،لیکن میرے یہ الفاظ بیوی نے غور سے سنے یا نہیں سنے مجھے اس کا علم نہیں، ہمارے علاقے میں ایک مفتی صاحب جمعہ پڑھانے آتے تھے ،میں نے اپنا یہ مسئلہ ان کے سامنے بیان کیا، جیسا میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں، تو وہ کہنے لگے کہ تمہاری نیت ایک طلاق دینے کی تھی ، نہ کہ تین کی اور تمہارے الفاظ بھی یہی تھے کہ میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں، تو یہ ایک طلاقِ رجعی ہے، اگر صلح یا رجوع کرنا چاہتے ہو تو رجوع کر لو ،اور میں نے رجوع کر لیا یہ معاملہ تین سال سے ہمارے درمیان چل رہا ہے، بیوی جب بھی کسی بات پر ناراض ہوتی ہے یا جھگڑا ہوتا ہے، تو وہ کہتی ہے کہ تم نے تین طلاقیں دی تھیں، اور بیوی میری بات کو تسلیم نہیں کرتی ،اب آپ مجھے مستند فتوی عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لئے بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا لازم اور ضروری نہیں ،بلکہ اس کے بغیر بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ” میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں ، ایک طلاق دیتا ہوں ، ایک طلاق دیتا ہوں “ تین بار کہہ دیے تو اس سے قضاءًسائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، ورنہ سخت گنہگار ہوں گے ،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( الآیۃ 23، سورۃ البقرۃ)۔
و فی التاترخانیۃ: و لو قال ترایک طلاق یک طلاق یک طلاق بغیر العطف وھی مدخولۃ بھا تقع ثلاث تطلیقات الخ ( الفصل الرابع فیما یرجع الطلاق ج:4،ص:429،ط:رشیدیۃ)۔
و فی الھندیۃ: فی فتاوی النسفی إذا قال لإمرأتہ المدخول بھا ترا یک طلاق ترا یک طلاق فھما بمنزلۃ قولہ أنت طالق أنت طالق الخ (الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلاقات الثلاث فحکمھا الأصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ أیضا حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر لقولہ عزوجل فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ و سواء طلقھا ثلاثا متفرقۃ أو جملۃ واحدۃ الخ ( فصل و أما حکم الطلاق البائن ج 3 ، ص 187 ، ط: سعید ) ۔