السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری شادی تقریباً چھ (6) مہینے پہلے میرے والدین نے اپنی پسند سے کروائی تھی۔ یہ شادی میری پسند کی نہیں تھی، لیکن میں نے والدین کے کہنے پر نکاح کے وقت رضا مندی ظاہر کر دی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ شادی کو چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اب تک جماع (ہمبستری) نہیں ہو سکی، کیونکہ بیوی کے جسم میں تنگی کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوتا۔ کئی بار کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی بہت پریشان کن اور مایوس کن ہو چکی ہے۔ میری بیوی پڑی لکھی نہیں ہے، بلکہ بالکل ان پڑھ ہے، جبکہ میں خود ماسٹر ڈگری ہولڈر ہوں، اس وجہ سے ذہنی، فکری اور مزاجی ہم آہنگی بھی بالکل نہیں بن پاتی۔ اس کے علاوہ، جس لڑکی سے میں شادی کرنا چاہتا تھا وہ میری موجودہ بیوی کی کزن ہے ۔وہ اب تک میرے ذہن سے نہیں نکل پائی، اور دل اس کی طرف مائل رہتا ہے۔ اب یہ کیفیت ہے کہ اگر ازدواجی تعلق ممکن بھی ہو جائے، تب بھی دل نہیں مان رہا اور زندگی بوجھ سی لگ رہی ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں طلاق دینے کا سوچوں تو میری بیوی کے کوئی بھائی نہیں ہیں اور اس کی چھ بہنیں ہیں، جس کی وجہ سے میرا ضمیر بھی ملامت کر رہا ہے کہ یہ ظلم ہو گا۔ میرا سوال یہ ہے:
1. کیا شریعت کے مطابق ایسے حالات میں اس نکاح کو برقرار رکھنا بہتر ہے یا اسے ختم کرنے کی اجازت ہے؟
2. اگر ازدواجی تعلق ممکن نہ ہو یا دل و ذہن سے مطمئن نہ ہو تو کیا طلاق دینا جائز ہے؟
3. کیا اس مسئلے کا کوئی شرعی یا طبی حل موجود ہے جس سے سکونِ قلب اور ازدواجی ہم آہنگی پیدا ہو سکے؟
4. اس صورتحال میں ضمیر اور خاندانی ذمہ داری کے تقاضے کس طرح پورے کیے جا سکتے ہیں؟
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ نکاح کا بنیادی مقصد سکون مؤدّت و محبت کا حصول ہے، جس کے لیے زوجین کے درمیان موافقت کا پایا جانا ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ازدواجی تعلق قائم نہ ہو سکا ہو اور مذکور طبی خرابی مستقل نوعیت کی ہو تو اس صورت میں اگر چہ زبردستی اس رشتہ کو برقرار رکھنے کی بجائے طلاق کے ذریعے علیحد گی اختیار کرنے کی گنجائش ہے، البتہ سائل کو چاہئیے کہ اس معاملہ میں جلد بازی سے کام نہ لے، بلکہ طلاق سے قبل بیوی کے علاج معالجہ کی حتی المقدور کوشش کرے اور گھر کے بڑے بزرگوں سے مشورہ کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرے، تاہم اس کےباوجود اگر تمام تدابیر اختیار کرنے کے بعد بھی ازدواجی تعلق قائم نہ ہو سکے یا زوجین کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان برقرار رہے تو سائل کے لیے ایک طلاق دے کر بیوی کو اپنی زوجیت سے الگ کرنا جائز ہوگا اور اس کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ بھی نہ ہوگا۔
كما في سنن أبي داود: عن ابن عمر رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: "أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق". [(3/ 505)]
وفي رد المحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر. [(3/ 228)]