میں نے ایک کنڈیشن سیٹ کر دی تھی جس میں میں نے اپنی وائف کو کہا تھا کہ اگر تمہارا یہ جھوٹ پکڑا گیا تو سمجھ لینا کہ طلاق ہو چکی ہے اور دو طلاقیں میں کافی عرصے پہلے اسے دے چکا تھا تو اس صورت میں کیا تیسری طلاق منہ سے نہ دیئے بغیر، لیکن کنڈیشن سیٹ کر دی تو قائم ہو جائے گی یا پھر وہ قائم نہیں ہوگی؟
کیونکہ میرا یہ ماننا ہے کہ میں نے اس پر یہ کنڈیشن سیٹ کی کہ اگر تمہارا جھوٹ پکڑا گیا تو سمجھ لینا کہ طلاق ہو چکی ہے ،یعنی کہ اگر ثابت ہوا کہ تم جھوٹ کہہ رہی ہو اتنی بڑی بڑی قسمیں کھانے کے باوجود بھی تو مطلب یہ کہ طلاق ہو چکی ہے سمجھ جانا تو اس سے میرےعلم کے مطابق طلاق ہو جائے گی، لیکن میرا علم اسلام کے آگے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تو اس لیے میں آپ سے فتوے کی درخواست کرتا ہوں براہ مہربانی مجھے اس بارے میں ایک فتوی دیجیے، تاکہ میں طلاق کے پیپرز میں اس فتوے کو لگا سکوں اور طلاق دائر کر سکوں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل نے بیوی کو مذکور الفاظ" اگر تمہارا یہ جھوٹ پکڑا گیا تو سمجھ لینا کہ طلاق ہو چکی ہے" کہے ہوں تو چونکہ سمجھنے اور فرض کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،اس لیے مذکور الفاظ سے شرعا کوئی طلاق معلق نہیں ہوئی ، چنانچہ شوہر کا طلاق کو معلق کرنے کے بعد بھی بیوی کا جھوٹ پکڑا گیا ہو تب بھی شرعا سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، جبکہ شوہر چونکہ پہلے دو طلاقیں دے چکا ہے، اس لیے آئندہ اس کو فقط ایک طلاق اختیار حاصل رہے گا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
فی الفتاوی الھندیۃ : و لوقال "دادہ انکار او کردہ انکار (ظنی انہ اعطی او ظنی انہ فعل )لایقع و ان نوی اھ (1/380)۔
و فیہ ایضاً : و إن علق الطلاق بالشرط إن كان الشرط مقدما فقال إن دخلت الدار فأنت طالق و طالق و طالق و هي غير مدخولة بانت بواحدةعند وجود الشرط في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - و لغا الباقي و عندهما يقع الثلاث و إن كانت مدخولة بانت بثلاث إجماعا اھ(1/374)۔
و فی بدائع الصنائع : فإن قدمه بأن قال : إن دخلت الدار فأنت طالق و طالق و طالق ، تعلق الكل بالشرط بالإجماع حتى لا يقع شيء قبل دخول الداراھ (3/138)۔